رسائی کے لنکس

صدر ٹرمپ کا سی آئی اے کے صدر دفتر کا دورہ


ٹرمپ نے یہ واضح کیا کہ شدت پسند گروپ داعش کے خلاف جنگ ان کی اولین ترجیح ہو گی اور ان کی انتظامیہ اس معاملے سے نمٹنے کی طریقہ کار کو اور مضبوط کرے گی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے خفیہ ادارے 'سی آئی اے' کے ارکان کے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بھر پور حمایت ان کے ساتھ ہو گی

ٹرمپ نے یہ بات ہفتہ کو سی آئی اے کے ہیڈکوارٹر کے دورے کے دوران اہلکاروں سے خطاب کے دوران کہی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ "میں جانتا ہوں کہ بعض اوقات آپ کو وہ حمایت نہیں ملی جس کے آپ متمنی تھے لیکن (اب) آپ کو بہت زیادہ حمایت ملے گی۔ شاید آپ یہ کہیں براہ کرم ہماری اتنی زیادہ حمایت نا کریں۔"

سی آئی اے کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر کا خطاب سننے کے لیے سی آئی اے اسٹاف کے تقریباً چارسو اراکان موجود تھے۔

ٹرمپ نے یہ واضح کیا کہ شدت پسند گروپ داعش کے خلاف جنگ ان کی اولین ترجیح ہو گی اور ان کی انتظامیہ اس معاملے سے نمٹنے کی طریقہ کار کو اور مضبوط کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے جتنی بھی جنگیں لڑی ہیں ان میں سے یہ جنگیں ہم ایک طویل عرصے سے لڑ رہے ہیں۔ ہم نے اپنی حقیقی صلاحیتوں کا استعمال نہیں کیا ہے ہم نے تحمل سے کام لیا۔ ہمیں داعش سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے، داعش کو ختم کرنا ہے ۔ ہمارے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔"

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر کا سی آئی اے کے صدر دفتر کا دورہ کرنا بظاہر معاملات کو بہتر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ قبل ازیں ٹرمپ امریکہ کے انٹیلیجنس اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

ٹرمپ نے عہدہ صدارت پر فائز ہونے سے قبل کئی ماہ تک سی آئی اے اور وفاقی تحقیقاتی ادارے' ایف بی آئی' کی ان رپورٹس سے اتفاق کرنے سے انکار کیا کہ روس نے امریکی انتخاب میں مداخلت کرنے کے لیے ڈیموکریٹک نیشنل کنوینشن ( ڈی این سی) کی ای میلز کی ہینکنگ کی تھی ۔

تاہم 11 جنوری کی اپنی پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے یہ تسلیم کیا کہ "میرے خیال میں یہ روس تھا" جس نے ڈی این سی کی ہیکنگ کی لیکن بعد ازاں انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ شاید چین سمیت کوئی دوسرا (ملک) بھی ہو سکتا ہے۔

امریکہ کے نئے صدر یہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں کہ ماسکو نے یہ حملے ان کی سابق ڈیموکریٹک حریف ہلری کلنٹن کو ناکام بنانے کے لیے کیے تاکہ وائٹ ہاؤس جانے میں ان (ٹرمپ) کی مدد کی جا سکے۔

وہ بارہا انٹیلیجنس ادارواں کی ماضی کی غلطیوں کا ذکر کر چکے ہیں اور انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ امریکہ کی انٹیلیجنس برادری نے شاید یہ غیر مصدقہ رپورٹ افشا کی ہو کہ روس کے پاس ان کے خلاف پریشان کن معلومات ہیں۔

ہفتے کو اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کا یہاں آنے کا مقصد ''میڈیا کے ساتھ طویل عرصے سے جاری لڑائی ہے" اور ان کے بقوال انہوں (ذرائع ابلاغ) نے یہ تاثر دیا ہے جیسے میری انٹیلیجنس اداروں کے ساتھ کوئی لڑائی ہے۔"

ٹرمپ نے ایک ایسے وقت سی آئی اے کے صدر دفتر کا دورہ کیا جب کانگرس کے ڈیموکریٹک ارکان ٹرمپ کے سی آئی اے کے نامزد ڈائریکٹر، ایوان نمائندگان کے رکن مائیک پامپیو کی توثیق کے لیے ہونے والی سماعت کو پیر تک موخر کروانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

دوسری طرف ریپبلکن قانون سازوں نے اس معاملےکو موخر کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اختتام ہفتہ خفیہ ادارہ بغیر سربراہ کے ہو گا۔

ٹرمپ نے پامپیو کو سراہتے ہوئے سی آئی اے کے اسٹاف کو کہا کہ ان کے نامزد ڈائریکٹر اس عہدے کے لیے موزوں (شخص) ہیں۔ انہوں ںے کہا کہ وہ ایک باکمال شخص ہیں۔

سی آئی کے صدر دفتر کے دورے سے پہلے نئے صدر نے اپنی اہلیہ، نائب صدر مائیک پینس اور ان کہ اہلیہ کیرن کے ہمراہ واشنگٹن کے نیشنل کیتھیڈرل میں ایک دعائیہ تقریب میں شرکت کی۔

ہفتہ کو قبل ازیں ٹرمپ نے ٹوئیٹر پر امریکی عوام کا جمعہ کو ہونے والی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا اس ساتھ انہوں نے ذرائع ابلاغ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے عمومی طور پر بطور صدر ان کے پہلے خطاب کو سراہا ہے۔

XS
SM
MD
LG