رسائی کے لنکس

زوخار کی درخواست، ’مقدمہ دوبارہ چلایا جائے‘


فائل

فائل

جمع کرائی گئی عرضداشت میں زوخار کی جانب سے قانونی دلائل کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ اس میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ’انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے، ایسا کیا جانا ضروری ہے‘۔۔ اس قسم کا استفسار سامنے آنا عام سی عدالتی روایت ہے

بوسٹن میراتھون بم حملے کے مجرم، زوخار سارنیف کے وکلا نے نیا مقدمہ چلانے کی ایک باضابطہ درخواست عدالت میں جمع کرائی ہے، جس سے تقریباً دو ہفتے قبل زوخار کو 2013ء حملہ کیس میں موت کی سزا سنائی ہے۔

جمع کرائی گئی عرضداشت میں زوخار کی جانب سے قانونی دلائل کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ اس میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ’انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے، ایسا کیا جانا ضروری ہے‘۔

اکیس برس کے زوخار سارنیف کو بم حملہ کیس میں 30 وفاقی الزامات پر سزا سنائی جا چکی ہے، جس میں تین افراد ہلاک اور 260 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اُسی جیوری نے موت کی سزا کی سفارش کی تھی اور ایک وفاقی جج نے 24 جون کو اُنھیں باضابطہ طور پر سزا سنائی۔

زوخار کے وکلا اس درخواست کو ابتدائی اپیل قرار دیتے ہیں، تاوقتیکہ اسی ماہ ایک تفصیلی عرضداشت پیش کی جائے۔

وکلائے دفاع کی رائے میں سنائے جانے والےفیصلے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے، اس درخواست پر فیصلہ دینے کی گذارش کی گئی ہے۔ اس قسم کی گذارشات کا سامنے آنا عام سی روایت ہے، جن کا مقصد جیوری کے فیصلے پر اعتراض اٹھانا ہوتا ہے۔

جب مؤقف معلوم کرنے کے لیے اُنھیں ٹیلی فون کیا گیا تو امریکی اٹارنی کارمن آرٹز کی خاتون ترجمان نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

مقدمے کے دوران، زوخار سارنیف کے وکلا نے یہ بات تسلیم کی کہ زوخار نے اپنے بھائی سے مل کر میراتھون ریس کی اختتامی لائن کے قریب دو پریشر کوکر بم نصب کیے تھے۔ اُن کی دلیل یہ تھی کہ اس حملے کا سرغنہ اُن کا بڑا بھائی، تمرلان تھا؛ جب کہ وکلا نے جیوری سے عمر قید نہ کہ موت کی سزا سنانے کا استفسار کیا تھا۔

بم حملوں کے کئی دِن بعد، تمرلان اُس وقت مارا گیا جب وہ بھاگ نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔

زوخار سارنیف کی اپیل میں جن دلائل کو اٹھایا جاسکتا ہے اُس میں مجرم کے وکلا کا استفسار شامل ہوگا کہ مقدمے کی کارروائی میساچیوسٹس سے باہر ہونی چاہیئے، کیونکہ وہاں بم حملے کے سلسلے میں جذباتی ماحول پایا جاتا ہے۔ جج جارج او تولے جونیئر نے زوخار سارنیف کے وکلا کی جانب سے مقدمے کی سماعت میساچیوسٹس سے باہر کرنے کی گذارشات کو مسترد کردیا تھا۔

XS
SM
MD
LG