رسائی کے لنکس

قیدخانے کے ایک سابق وفاقی وارڈن نے زوخار کے مقدمے کی کارروائی کے دوران عدالت کو بتایا تھا کہ ’سپر میکس‘ سکیورٹی کے حصار میں واقع فلورنس کا قیدخانہ ہے، جہاں کوئی ساتھی نہیں ہوتا، یہاں قیدی کو تنہائی میں رکھا جاتا ہے

بوسٹن میراتھون ریس بم حملہ کیس کے مجرم، زوخار سارنیف کو جمعرات کے روز ریاست کولوراڈو کے شہر، فلورینس میں قائم امریکی اصلاحی قیدخانے منتقل کر دیا گیا۔ اس تنصیب کو نام نہاد ’سپرمیکس‘ کا نام دیا جاتا ہے، جس میں خطرناک قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔

یہ بات ’بیورو آف پرزنس‘ کے ترجمان نے بتائی ہے۔

اکیس برس کے زوخار سارنیف کو اُسی روز اِس تنصیب کی طرف منتقل کیا گیا تھا جب بوسٹن کے جج نے باضابطہ طور پر اُنھیں زہرلے انجیکشن کے ذریعے موت کی سزا سنائی تھی۔ اُن پر 15 اپریل 2013ء کے بم حملے، اور اس کے بعد، چار افراد کے قتل اور 264 کو زخمی کرنے کا جرم ثابت ہوا۔

’بیورو آف پرزنس‘ کے ترجمان، ایڈمنڈ روس نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔

اس سے قبل، زوخار سارنیف کو ریاست میساچیوسٹس کے شہر، ڈیونز میں ایک قید خانے میں رکھا گیا تھا، جو بوسٹن کے مغرب میں واقع ہے۔

بدھ کی سماعت کے دوران، عدالت کے سامنے میراتھون حملے میں بچ جانے والے دو درجن افراد اور اُن کے اہل خانہ پیش ہوئے، جن کی شہادت کے بعد، زوخار پہلی مرتبہ عدالت سے مخاطب ہوا۔

اُس نے عدالت کو بتایا کہ، ’جو جانیں میری وجہ سے ضائع ہوئیں اور جن دیگر افراد کو میری وجہ سے تکلیف پہنچی، جو نقصان میں نے کیا، جس کی تلافی ممکن نہیں، میں سب پر معافی چاہتا ہوں‘۔

قیدخانے کے ایک سابق وفاقی وارڈن نے زوخار کے مقدمے کی کارروائی کے دوران عدالت کو بتایا تھا کہ ’سپر میکس‘ سکیورٹی کے حصار میں واقع فلورنس کا قیدخانہ ہے، جہاں کوئی ساتھی نہیں ہوتا، یہاں قیدی کو تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔

اس تنصیب میں اوکلاہوما سٹی بم حملہ آور، ٹیری نکولس؛ انڈرویئر بم حملہ آور عمر فاروق عبد المطلب؛ اور بم حملہ آور، ٹیڈ کاسنسکی قید ہیں۔

XS
SM
MD
LG