رسائی کے لنکس

کراچی میں سمندری طوفان ’سونامی‘ کی آمد سے متعلق بے بنیاد خبروں کے بعد کراچی میں خوف پھیل گیا ہے۔ لیکن، توصیف عالم کا کہنا ہے کہ کراچی ہر طرح سے محفوظ ہے۔ سونامی کے خطرات سے بچنے کے لئے 10 ستمبر کو ایک مشق بھی کی گئی تھی ۔۔۔

کراچی کے شہریوں کو بدھ کے روز آنے والی اس خبر نے انتہائی خوف زدہ کر دیا تھا کہ شہر کو سمندری طوفان ’سونامی‘ سے سنگین خطرہ ہے۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کی جانب سے جاری کردہ اس خبر کو انٹرنیٹ اور نجی ٹی وی چینلز پر بھی بار بار پیش کیا جاتا رہا۔ خبر میں مزید کہا گیا تھا کہ ’مکران کی ساحلی پٹی پر شدید زلزلوں کی صورت میں کراچی سے جڑے بحیرہ عرب میں انتہائی بلند لہریں اٹھیں گی، جس سے شہر کو بڑے پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

اس ’خبر کی تصدیق کے لئے وائس آف امریکہ کے نمائندے کی جانب سے چیف میٹرولوجسٹ، محکمہٴ موسمیات محمد توصیف عالم سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’کراچی کو سونامی سے تباہی کا کوئی خطرہ نہیں اور سونامی کے سبب کراچی کے’صفحہ ہستی‘ سے مٹ جانے یا شہر کے تباہ ہوجانے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ کراچی ہر طرح سے محفوظ ہے۔ شہری اس قسم کی بے بنیاد باتوں پر کان نہ دھریں۔‘

جمعرات کو وی او اے سے انٹرویو میں توصیف عالم کا کہنا تھا کہ بدھ 10ستمبر کو اقوام متحدہ کے زیر نگرانی مکران کے ساحلی علاقے میں ریکٹر اسکیل پر 9کی شدت کے خیالی زلزلے کے بعد آنے والے تصوراتی سونامی سے نمنٹے کی مشق کی گئی تھی۔

اس مشق کو ’انڈین اوشین ویو 2014ء‘ کا نام دیا گیا تھا۔ مشق ’نیشنل سیسمک مانیٹرنگ اینڈ سونامی ارلی وارننگ سینٹر محکمہ موسمیات‘ کے زیرنگرانی اور اقوام متحدہ کے تعاون سے منعقد کی گئی تھی۔

مشق کا مقصد یہ تھا کہ اگر خدانہ خواستہ کراچی میں ریجنل سونامی سروس پرووائیڈرز، یعنی آسٹریلیا، انڈیا اور انڈونیشیا کی جانب سے سونامی کی وارننگ جاری ہوئی تو شہریوں کو کسی بھی خطرے سے قبل اس سے بچاوٴ کے لئے کیا کیا ترغیبات اپنانا ہوں گی، اور ایسی صورت میں کس طرح کا باہمی تعاون اپنانا ہوگا۔ لیکن، نامعلوم کس طرح میڈیا میں اس مشق کی تفصیلات غلط ترجمہ ہوئیں جس کے بعد یہ بے بنیاد افواہیں گردش کرنے لگیں کہ کراچی کو سونامی سے خطرہ ہے اور سونامی آنے کی صورت میں کراچی صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔یا مکمل طور پر تباہ ہوجائے گا۔۔حالانکہ شہر کو ایسا کوئی خطرہ نہیں۔‘

توصیف عالم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’اس مشق کے بعد پاکستان کا نام بحیرہ عرب کے ارد گرد واقع ان 20ممالک کی فہرست میں شامل کرنا مقصود تھا جو سونامی کی صورتحال کا ہر طرح سے مقابلہ کرنے کی باقاعدہ مشق کرچکے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ مشق کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر پاکستان میں سونامی کی وارننگ جاری ہوتی ہے تو اسے ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو کم سے کم وقت میں کس طرح اونچی عمارتوں یا دیگر محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہوگا؟ دیگر ممالک کے ساتھ سونامی کی صورت میں کمیونی کیشن کس طرح کا ہے ؟ کیا ہمیں سونامی کی بروقت اطلاع مل سکے گی؟ پھر ہمارا فوری لائحہ عمل کیا ہوگا؟ سرکاری اور اہم تنصیبات کو کس طرح محفوظ بنایا جاسکے گا؟

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم ان سب چیزوں کے لئے تیار نہیں تو تیار ہوجائیں ۔ اس ڈمی ایکسرسائز کا مقصد یہی تھا کہ لوگوں کو آگاہی فراہم کی جائے ۔ سن 2004 میں انڈونیشیا میںآ نے والے سونامی میں دو لاکھ 30 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے لہذا پاکستان سمیت بحیرہ عرب کے گرد واقع تمام ممالک کو اس طرح سے صورتحال سے نمنٹے کے لئے آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ مشق سے انڈین اوشین سونامی وارننگ اینڈ میٹی گیشن سسٹم کے موجودہ طریقہ کار کو جانچنے میں مدد ملی ہے۔ میرے خیال میں ایسی مشقیں وقتاً فوقتاً ہوتی رہنی چاہئیں۔‘

محکمہ موسمیات، نیشنل اور سندھ و بلوچستان کی پروونشیل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنرز بدین، ٹھٹھہ، گوادر و لسبیلہ، کراچی پورٹ ٹرسٹ، کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ، غیر سرکاری ادارے اور میڈیا کو بھی اس قسم کی مشقوں سے آگاہی بہت ضروری ہے۔ مذکورہ اداروں نے اس مشق میں حصہ لیا لیکن انہیں اپنا کردار مزید بڑھانا ہوگا۔‘

XS
SM
MD
LG