رسائی کے لنکس

رستم شاہ مہمند ’جنگ بندی‘ کے لیے پُرامید


فائل

فائل

ابتدائی روابط کے بعد کوشش ہوگی کہ کاروائیاں بند ہو جائیں۔ طالبان کی جانب سے نفاذ شریعت کا مطالبہ مذاکرات میں تعطل کا باعث نہیں بنے گا: وزیر اعظم کی مذاکراتی ٹیم کے رکن کی ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو

تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرت کے لیے تشکیل دی جانے والی حکومتی ٹیم کے ایک رکن، سابق سفیر رستم شاہ مہمند نے کہا ہے کہ ’حکومت کی مذاکراتی ٹیم ڈاکخانہ نہیں، بلکہ مکمل طور پر بااختیار ہے اور وسیع مینڈیٹ رکھتی ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم پوری کمٹمنٹ کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ ابتدائی روابط کے بعد، کوشش ہوگی کہ جنگ بندی ہوجائے‘۔

’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے، رستم شاہ مہمند نے کہا کہ طالبان کے ساتھ روابط کی تفصیل ابھی دینا مناسب نہ ہوگا، کیونکہ اس سے کسی طرح کا رخنہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ابتدائی گفتگو کے بعد، جنگ بندی ہو سکتی ہے۔

اِس ضمن میں، انہوں نے خبردار کیا کہ عسکریت پسندوں کے وہ گروپ جو مذاکرات کے مخالف ہیں، وہ ماحول کو سبوتاژ کرنے کے لیے کاروائیاں کر سکتے ہیں۔ لہذا، بقول اُن کے، ’اِس بارے میں بھی، آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی‘۔

اس سوال پر کہ طالبان نے اپنے حالیہ بیان میں پھر باور کرایا ہے کہ وہ ملک میں نفاذ شریعت سے متعلق اپنے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، جبکہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ مذاکرات ملک کے موجودہ آئین کے دائرے میں ہوں گے۔ تو کیا یہ باہم متصادم باتیں نہیں ہیں؟ اس پر، اُنھوں نے کہا کہ ’یہ معاملہ کسی تعطل کا سبب نہیں بنے گا‘۔

بقول اُن کے، ’میں تفصیل میں جائے بغیر کہوں گا کہ معاملہ تعطل کا باعث نہیں بنے گا۔ باقی مسائل زیادہ پیچیدہ ہیں، جن کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے‘۔

سابق سفیر نے کہا کہ مذاکرات کے لیے وقت کی حدیں مقرر کرنا ٹھیک نہ ہوگا، کیونکہ بڑا انسانی بحران ہے جس کا ملک کو سامنا ہے۔

اُن کے بقول، دونوں اطراف بڑا جانی نقصان ہوا ہے۔ آٹھ نو برس کے اس تنازعے کے حل کے لیے وقت کی قید نہیں لگانی چاہیئے۔ ’ہاں، اگر یہ کسی نتیجے کی طرف نہیں جاتے تو حکومت کے پاس باقی آپشن بھی ہیں‘۔

دوسری طرف، واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک ’یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس‘ کے ایشیا پروگرام کے ڈائریکٹر، معید یوسف اور پاکستان کے دفاعی تجزیہ کار، آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار برگیڈیر (ر) اسد منیر حکومت کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں سے زیادہ پر امید نظر نہیں آتے۔

’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں، اسد منیر نے کہا کہ ’اولاً جو کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اس میں سوائے رحیم اللہ یوسفزئی کے، کوئی بھی رکن فاٹا میں موجودہ صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہے؛ نہی اسے عسکریت پسندی کی بدلتی ہوئی حرکیات کا اندازہ ہے‘۔

ان کے بقول، ’قیادت اور عوام کو گمراہ خیال کرنے والوں اور فوج، آئین اور جمہوریت ان تمام حقیقتوں سے انکاری طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں، جو آج بھی اپنے بیان میں اپنی تشریح کردہ شریعت کے نفاذ پر مصر ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ 13 بار ناکام مذاکرات ہو چکے ہیں اور جب بھی کارروائی کی گئی ہے، وہی کامیاب رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف طاقت کا استعمال ہی طالبان کو کمزور کر سکتا ہے۔

معید یوسف نے کہا کہ حکومت نے کچھ سوچ کر ہی مذاکرات کو ایک اور موقع دیا ہوگا۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ ’بظاہر مذاکرات کی کامیابی کا امکان کم ہے، اور کچھ ماہ بعد صورتحال اسی موڑ پر آجائے گی جہاں پہلے تھی‘۔

آڈیو رپورٹ سننے کے لیے، کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG