رسائی کے لنکس

سماجی میڈیا پر بدھ کو شائع ہونے والے ایک بیان میں، دولت اسلامیہ نے کہا ہے کہ ایک شدت پسند نے، جس کا نام ابو عبداللہ التیونسی تھا، بس کو نشانہ بنایا جس میں، بقول اُس کے، ’تقریباً 20 مرتد ہلاک ہوئے‘

داعش کے شدت پسند گروہ نے منگل کے روز بس پر کیے گئے بم حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے، جس میں تیونس کے اعلیٰ تربیت یافتہ صدارتی محافظ سوار تھے، جس حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے۔

سماجی میڈیا پر بدھ کو شائع ہونے والےبیان میں، دولت اسلامیہ نے کہا ہے کہ ایک شدت پسند نے، جس کا نام ابو عبداللہ التیونسی تھا، بس کو نشانہ بنایا جس میں، بقول اُس کے، ’تقریباً 20 مرتد ہلاک ہوئے‘۔
یہ بس تیونس کےدارالحکومت، تیونس کے مرکزی علاقے سے گزر رہی تھی۔

وزارت داخلہ نے بدھ کے روز بتایا کہ حملے میں 10 کلوگرام آتشیں مواد استعمال ہوا، جو کاندھے پر لٹکے ہوئے تھیلے یا پھر خودکش جیکٹ میں رکھا ہوا تھا۔

وزارت کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ خیال ہے کہ دھماکے کے مقام سے برآمد ہونے والی تیرہویں لاش ’اُسی دہشت گرد کی ہے، جس نے یہ دھماکہ کیا‘۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ڈی این اے‘ ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، تاکہ حملہ آور کی شناخت ہو سکے۔

بدھ کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں امریکہ نے منگل کو تیونس کے سکیورٹی اہل کاروں پر ہونے والے اِس بم حملے کی ’شدید ترین الفاظ میں مذمت‘ کی ہے۔

بدھ ہی کے روز، تیونس کے صدر قائد السبسی نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ کرفیو اور دیگر احتیاطی تدابیر کی پاسداری کی جائے، جنھیں اس حملے کے بعد اختیار کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG