رسائی کے لنکس

فریقین میں ثالث کا کردار ادا کرنے والی تیونس کی بااختیار یوجی ٹی ٹی لیبر یونین نے تجویز دی تھی کہ اسلام پسند حکمران جماعت النھضہ تین ہفتوں تک مذاکرات کے بعد اقتدار سے علیحدہ ہوجائے گی

تیونس میں اسلام پسندوں کی حکومت سکیولر حزب مخالف سے مذاکرات کے بعد مستعفی ہونے پر رضا مند ہوگئی ہے۔ یہ بات چیت آئندہ ہفتے متوقع ہے جس میں عبوری انتظامیہ کی تشکیل اور نئے انتخابات کی تیاری پر بات چیت کی جائے گی۔

اس بات چیت سے اسلام پسندوں کی مخلوط حکومت اور حزب مخالف کی سکیولر جماعتوں کے درمیان ہفتوں سے جاری بحران کا خاتمہ متوقع ہے جو کہ ملک کی نئی جمہوریت کے لیے خطرہ بنتا جارہا تھا۔

فریقین میں ثالث کا کردار ادا کرنے والی تیونس کی بااختیار یوجی ٹی ٹی لیبر یونین نے تجویز دی تھی کہ اسلام پسند حکمران جماعت النھضہ تین ہفتوں تک مذاکرات کے بعد اقتدار سے علیحدہ ہوجائے گی اور غیرجانبدارانہ و آزادانہ عبوری انتظامیہ کی تشکیل کے بعد پارلیمانی و صدارتی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

النھضہ جماعت کے ایک عہدیدار لطفی زیتون کا کہنا تھا کہ مذاکرات پیر یا منگل کو شروع ہوں گے۔ "النھضہ نے ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کے غیر مشروط اس منصوبے کو قبول کیا۔"

سابق حکمران زین العابدین بن علی کو عوامی تحریک کے نتیجے میں 2011ء میں اقتدار چھوڑنا پڑا تھا، اس کے بعد سے تیونس میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے لیے ایک منقسم جدوجہد ہوتی رہی۔ حزب مخالف نے النھضہ پر الزام عائد کیا کہ وہ اسلامی دنیا کی سب سے سیکولر قوم پر اسلامی ایجنڈہ مسلط کر رہی ہے۔

سیاسی بحران کا آغاز حزب مخالف کے ایک رہنما کے قتل کے بعد جولائی میں ہوا، اس ہلاکت کا الزام مشتبہ اسلامی عسکریت پسندوں پر عائد کیا گیا۔ اس قتل کے بعد حزب مخالف حکمران جماعت النھضہ سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ لے سڑکوں پر نکل آئی۔
XS
SM
MD
LG