رسائی کے لنکس

تیونس: حکومت سازی کے لیے النہضہ کے دیگرجماعتوں سے رابطے


تیونس: حکومت سازی کے لیے النہضہ کے دیگرجماعتوں سے رابطے

تیونس: حکومت سازی کے لیے النہضہ کے دیگرجماعتوں سے رابطے

تیونس کے پہلے جمہوری انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی اسلامی جماعت 'الہضہ' کے رہنماؤں نے حکومت سازی کے لیے دیگر جماعتوں سے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔

ا'لنہضہ' کے سربراہ راشد الغنوشی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت "دوستانہ" اور "برادرانہ" بنیادوں پر نئی حکومت کے قیام کے لیے کام کرے گی۔

قبل ازیں گزشتہ روز تیونس کے الیکشن حکام نے اتوار کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا تھا۔ 'النہضہ' نے 217 رکنی پارلیمان میں 90 نشستیں حاصل کی ہیں جو کہ دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت سے تین گنا زیادہ ہیں۔

سیکولر جماعت 'کانگریس فار دی ری پبلک' 30 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی ہے جبکہ 'دی ڈیموکریٹک فورم فار لیبر اینڈ لبرٹیز' 21 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر آئی ہے۔

دریں اثنا انتخابات میں اسلامی نظریات کی حامل جماعت کی فتح کے بعد 'النہضہ' کی مخالف جماعتوں کی جانب سے مظاہروں کا سلسلہ جمعہ کو بھی جاری رہا۔

مظاہرین نے تیونس کے شہر 'سیدی بوزید' میں واقع 'النہضہ' کے مرکزی دفتر پر حملے کی کوشش کی جس پر وہاں تعینات سیکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور آنسو گیس کے شیل برسائے۔

مظاہروں کا سلسلہ جمعرات کو اس وقت شروع ہوا تھا جب حکام نے انتخابی قواعد کی خلاف ورزی پر 'النہضہ' کی اہم حریف جماعت 'پاپولر لسٹ پارٹی' کے جیتنے والے امیدواران کا انتخاب کالعدم قرار دینے کا اعلان کیا تھا۔

یاد رہے کہ 'سیدی بوزید' وہی شہر ہے جہاں گزشتہ برس شروع ہونے والی اس احتجاجی تحریک نے جنم لیا تھا جس نے پہلے تیونس پہ عشروں سے حکمران آمر زین العابدین بن علی کا بستر گول کیا اور پھر 'بہارِ عرب' نامی انقلاب میں ڈھل کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

جمعہ کو اپنے بیان میں 'النہضہ' کے سربراہ نے تیونس کے شہریوں سے امن و امان قائم رکھنے کی اپیل کی۔

تیونس میں اتوار کو ہونے والے انتخابات سابق صدر بن علی کو اقتدار سے بے دخل کیے جانے کے نو ماہ بعد منعقد ہوئے ہیں جنہیں بین الاقوامی مبصرین نے آزاد اور غیر جانبدار قرار دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG