رسائی کے لنکس

تیونس کے وزیرِاعظم مستعفی، سیاسی بحران سنگین


تیونس کے وزیرِاعظم حمادی جبالی اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر رہے ہیں

تیونس کے وزیرِاعظم حمادی جبالی اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر رہے ہیں

وزیرِاعظم جبالی نے ٹیکنوکریٹ پر مشتمل غیر جانبدار حکومت قائم کرنے میں ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔

تیونس میں حزبِ اختلاف کے ایک رہنما کے قتل سے پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی میں اضافے کے بعد ملک کے وزیرِاعظم حمادی جبالی مستعفی ہوگئے ہیں۔

وزیرِاعظم جبالی نے ٹیکنوکریٹ پر مشتمل غیر جانبدار حکومت قائم کرنے میں ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں حزبِ اختلاف کے سیکولر رہنما شکری بلعید کے قتل کے بعد ملک میں ہونے والے ہنگاموں پر قابو پانے کی غرض سے وزیراعظم جبالی نے اپنی کابینہ برخواست کرکے غیر جانبدار ماہرین پر مشتمل حکومت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم ان کی اپنی جماعت 'النہضہ' نے ان کے اس ارادے کی سخت مخالفت کی تھی۔

جبالی نے منگل کو تیونس کے صدر منصف المرزوقی سے ملاقات کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا۔

وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی اعلان کرچکے تھے کہ ٹیکنو کریٹ حکومت کے قیام میں ناکامی پر وہ مستعفی ہوجائیں گے لہذا وہ اپنا یہ وعدہ پورا کر رہے ہیں۔

شکری بلعید کو رواں ماہ کے آغاز میں ان کے گھر کے باہر نامعلوم شخص نے گولی مار کر قتل کردیا تھا۔ ان کے حامیوں نے قتل کا الزام اسلام پسند حکمران جماعت 'النہضہ'پر عائد کیا ہے جس کے رہنما اس الزام کی تردید کر رہے ہیں۔

اس قتل کے بعد تیونس میں آزاد خیال اور سیکولر حزبِ اختلاف اور 'النہضہ' کی سربراہی میں قائم اسلام پسند جماعتوں کے حکمران اتحاد کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔
XS
SM
MD
LG