رسائی کے لنکس

تیونیسیا: ہنگامی حالات میں دو ماہ کی توسیع


فائل

فائل

تیونیسا وہ واحد ملک ہے جہاں چار برس قبل نمودار ہونے والے ’عرب اسپرنگ‘ کے بعد، جمہوری حکمرانی اُبھر کر سامنے آئی تھی۔ تاہم، مذہبی انتہا پسندی کے نتیجے میں نئی حکومت ذاتی آزادیوں کے برعکس، استحکام اور سلامتی کے معاملات کو اہمیت دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے

تیونیسیا کے صدر نے ہنگامی حالات میں دو ماہ کی توسیع کردی ہے۔ اُنھوں نے ہنگامی حالات کا اعلان جون میں اُس وقت کیا تھا جب اِس شمال افریقی ملک کے بحیرہ روم میں واقع صحت افزا ساحلی مقام پر حملے ہوئے تھے۔ اِن حملوں میں 38 سیاح ہلاک ہوئے تھے۔

صدر باجی قائد سبسی کے دفتر کی جانب سے کیے گئے اعلان کے مطابق، یہ فیصلہ وزیر اعظم اور پارلیمان کے اسپیکر کے باہم مشورے کے بعد کیا گیا۔

اس ضمن میں پہلا حکم نامہ حملے کے کچھ ہی دِنوں کے اندر، چار جولائی کو صادر ہوا، جس میں زیادہ تر برطانوی سیاح ساحلِ سمندر پر واقع سوسے کے شہر میں ہلاک ہوئے۔
مارچ میں، دو مسلح افراد نے ملک کے دارالحکومت، تیونس میں واقع باردو میوزئم پر حملے کیا جس واقع میں 21 غیرملکی سیاح ہلاک ہوئے۔

داعش کے جہادی گروپ نے اِن حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دونوں حملے اُسی کی کارستانی ہے، جس کا مقصد ایک ماہ قبل تیونیسیا کی پارلیمنٹ کی جانب سے دہشت گردی کے انسداد سے متعلق نئی قانون سازی کی منظوری کا بدلہ لینا تھا۔

’ہیومن رائٹس واچ‘ نے اِس قانون سازی پر نکتہ چینی کی ہے جِس میں، بقول اُس کے، گرفتاری کے حوالے سے حکام کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے۔

ادارے کے بقول، اس کی بدولت دہشت گردی کی سماعت کے دوران، ججز کو بے انتہا اختیارات مل جائیں گے، جو سیاسی اختلاف رائے پر بھی لاگو ہوسکتے ہیں، جب کہ مؤثر دفاع کی فراہمی کے وکلا کے اختیارات میں کمی آئے گی۔

تیونیسا وہ واحد ملک ہے جہاں چار برس قبل نمودار ہونے والے ’عرب اسپرنگ‘ کے بعد، جمہوری حکمرانی اُبھر کر سامنے آئی تھی۔ تاہم، مذہبی انتہا پسندی کے نتیجے میں نئی حکومت ذاتی آزادیوں کے برعکس، استحکام اور سلامتی کے معاملات کو اہمیت دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔

XS
SM
MD
LG