رسائی کے لنکس

نوجوان مصر اور دیگر عرب ملکوں میں عوامی انقلاب کے روح رواں

  • لیزا بریانٹ

نوجوان مصر اور دیگر عرب ملکوں میں عوامی انقلاب کے روح رواں

نوجوان مصر اور دیگر عرب ملکوں میں عوامی انقلاب کے روح رواں

مصر اور دوسرے عرب ملکوں میں عوامی انقلاب کے روح ِ رواں نوجوان لوگ ہیں جو آمرانہ حکومتوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔انھوں نے آنکھ کھولنے کے بعد ہمیشہ ان حکومتوں کے جبر و استبداد کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا۔ وائس آف امریکہ کی نامہ نگار، Lisa Bryant نے ان نوجوانوں کی زندگی کی سختیوں اور ان کی امنگوں اور آرزوؤں کا مشاہدہ کرنے کے لیئے تیونس کے ایک قصبے Ettadhamen کا دورہ کیا۔

تیونس کے نواح میں واقع Ettadhamen کے قصبے کا شمار شمالی افریقہ کے اس چھوٹے سے ملک کے غریب ترین مقامات میں ہوتا ہے ۔ صحیح اعداد و شمار تو دستیاب نہیں ہیں لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہاں کے نوجوانوں کا گذارہ بڑی مشکل سے ہوتا ہے ۔ 29 سالہ بیسام بڑے خوش نصیب ہیں ۔ وہ ایک فرانسیسی کمپنی میں انجینیئر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے بھائی کے پاس ماسٹرز کی ڈگری ہے لیکن انہیں کوئی ملازمت نہیں مل سکی۔اب وہ قطر کے ایک ہوٹل میں برتن دھوتے ہیں۔

17 سالہ سلیم بھی Ettadhamen میں رہتے ہیں۔ وہ ابھی ہائی اسکول میں ہیں۔ وہ اس امید کا اظہار کرتےہیں کہ تیونس کا مستقبل تابناک ہو گا۔ وہ کہتے ہیں’’ہو سکتا ہے کہ اس نئی حکومت سے میرے دن پِھر جائیں، مجھے کوئی ملازمت مل جائے، میرے خواب حقیقت بن جائیں۔ بن علی کی حکومت تو اچھی نہیں تھی۔‘‘

تیونس میں ایک نوجوان سبزی فروش کی خود سوزی وہ چنگاری تھی جس سے انقلاب کی آگ بھڑک اٹھی۔ تیونس کے نوجوانوں کو اس نوجوان کی زندگی میں اپنی زندگی کی جھلک نظر آئی اور وہ سب سرا پا احتجاج بن گئے ۔ جن بستیوں میں سب سے پہلے بغاوت ہوئی ان میں Ettadhamen کا قصبہ بھی شامل تھا۔

پیرس میں قائم فرنچ انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کی منصوریہ موخیفی کہتی ہیں کہ تیونس کے نوجوانوں کی مایوسی، ان کی بے روزگاری اور بے بسی، آزادی اظہار اور عزتِ نفس کا فقدان کا عکس ساری عرب دنیا میں نظر آتا ہے جہاں ستر فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے ۔ موخیفی کہتی ہیں’’یہ نوجوان، تاریخ بنا رہے ہیں۔عرب دنیا صحیح معنوں میں پہلی بار آزادی کی تحریک کا مشاہدہ کر رہی ہے ۔ نوجوان عرب اپنا مقدر اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں۔‘‘

تیونس میں آپ کہیں بھی جائیں، لوگ آپ سے یہی کہیں گے کہ انھیں فخر ہے کہ انھوں نے بن علی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جس سے سب لوگ نفرت کرتے تھے۔

تیونس کے جریدے ریلیٹیز کے ایڈیٹر زید کریچن نے کہا کہ نئی نسل نے انہیں حیرت زدہ کر دیا۔’’ہم بڑی عمر کے لوگوں کا خیال تھا کہ تیونس کے نوجوانوں کو سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ اپنی دنیا میں مگن ہیں۔‘‘

تیونس کے انقلاب سے پوری عرب دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے ۔ الجزائر، سوڈان، یمن اور مراکش سے خود سوزی کے واقعات کی اطلاعات آئی ہیں۔ اب سب کی نظریں مصر پر لگی ہوئی ہیں جہاں ہزاروں احتجاجی مظاہرین 82 سالہ صدر حسنی مبارک سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔

تجزیہ کار موخیفی کہتی ہیں کہ تیونس کے انقلاب کی قیادت کرنے والوں میں پختگی تھی اور ان کا رویہ باوقارتھا۔ مصر میں ایسا ہونا مشکل ہے کیوں کہ مصر کی نئی نسل میں غربت اور پسماندگی زیادہ ہے، اور وہ کم تعلیم یافتہ ہے۔

تیونس کا انقلاب ابھی شروع ہوا ہے ۔ عبوری حکومت نے اب سے چھ مہینے بعد انتخابات کا وعدہ کیا ہے ۔ لیکن ملک کی سڑکوں پر مظاہرے کرنے والوں کی نوجوان قیادت کا عکس سیاست میں نظر نہیں آتا۔ حزبِ اختلاف سمیت ، بیشتر سیاستداں ادھیڑ عمر کے ہیں یا معمر ہیں۔

لیکن تجزیہ کار موخیفی تیونس کے مستقبل کے بارے میں پُر امید ہیں۔ بیرونی ملکوں میں رہنے والے تیونس کے باشندے، وطن واپس پہنچ رہے ہیں تا کہ اپنے ملک کی تعمیرِ نو میں مدد دے سکیں۔

XS
SM
MD
LG