رسائی کے لنکس

گولن کی تنظیم پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے: اردوان


ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکی کو بھی پاکستان کی طرح دہشت گردی کا سامنا ہے اور انسداد دہشت گردی کی جنگ میں ترکی پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے دعویٰ کیا ہے کہ جلاوطن ترک مبلغ فتح اللہ گولن کی دہشت گرد تنظیم نہ صرف ترکی بلکہ پاکستان کے لیے بھی خطرہ ہے اور ان کے بقول اس تنظیم کو ختم کرنا ضروری ہے۔

پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر آئے ہوئے صدر اردوان نے جمعرات کو اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ فتح اللہ گولن سے منسلک اداروں کے معاملے پر پاکستان کی طرف سے ترک حکومت کے ساتھ یکجہتی پر وہ ممنون ہیں اور انھیں امید ہے کہ پاکستان کا یہ رویہ دیگر دوست ملکوں کے لیے ایک نظیر ثابت ہو گا۔

"ہم اس نیٹ ورک کے خلاف ضروری اقدام کر رہے ہیں تاکہ اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے اور ضروری سزا دلوائی جا سکے۔ یہ تنظیم پاکستان کی سلامتی اور امن عامہ کے لیے خطرہ ہے اور شروع ہی سے پاکستان کی حکومت اس سے نمٹنے کے لیے ہمارے ساتھ رہی ہے۔"

ترک صدر 15 جولائی کو اپنی حکومت کے خلاف ہونے والی ناکام بغاوت کی منصوبہ سازی کا الزام امریکہ میں مقیم فتح اللہ گولن پر عائد کرتے ہیں جسے گولن تو مسترد کر چکے لیکن ترک حکومت نہ صرف ترکی میں گولن کی تنظیم "حزمت" سے وابستہ لوگوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کر رہی ہے بلکہ اس نے دنیا میں بھی اس کے خلاف اپنے موقف کو ٹھوس انداز میں پیش کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

پاکستان میں دو دہائیوں سے قائم پاک ترک اسکولز اور کالجز کے نیٹ ورک کو بھی فتح اللہ گولن کی تنظیم سے وابستہ قرار دیا جاتا رہا ہے گو کہ یہ تعلیمی ادارہ اس کی تردید کر چکا ہے۔

رواں ہفتے ہی پاکستانی حکام نے پاک ترک اسکول کے ترک عملے کو 20 نومبر تک پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ تعلیمی ادارے کے منتظمین کے مطابق ترک عملے اور ان کے اہل خانہ کی تعداد 450 کے لگ بھگ ہے اور اس حکم کے خلاف انھوں نے عدالت عالیہ سے بھی رجوع کر لیا ہے۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکی کو بھی پاکستان کی طرح دہشت گردی کا سامنا ہے اور انسداد دہشت گردی کی جنگ میں ترکی پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ اردوان کے بقول اس ضمن میں پاکستان کو ہر طرح کی مدد فراہم کی جائے گی۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان اور اور ترکی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری شعبوں میں تعاون کا فروغ مضبوط، اقتصادی تعلقات کا محور ہونا چاہیے اور ان کے بقول دونوں ملکوں نے دو طرفہ جامع تجارت کے معاہدے پر بات چیت کا عمل آئندہ سال کے اواخر تک مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔

ترک صدر پاکستانی پارلیمان سے خطاب کر رہے ہیں

ترک صدر پاکستانی پارلیمان سے خطاب کر رہے ہیں

جمعرات کی سہ پہر ترک صدر نے پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی کیا اور اس موقع کو انھوں نے ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف متحدہ کوششوں کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا۔

اپنے خطاب میں صدر اردوان نے کہا کہ القاعدہ اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کے کارندے اسلام کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایسے تمام عناصر جو بے گناہ لوگوں کا خون بہاتے ہیں، کا قلع قمع کرنے کے لیے اسلامی دنیا کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اس مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔

لیکن اس جماعت کے سربراہ عمران خان نے جمعرات کی شام اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں ایک بار پھر اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ بائیکاٹ کا تعلق ترک صدر سے ہر گز نہیں تھا۔

ان کے بقول ترک اور پاکستان کے لوگوں کے دیرینہ تعلقات ہیں اور "کسی صورت بھی یہ بائیکاٹ ان کے صدر اردوان کا نہیں تھا، یہ تو ایک وزیراعظم کا بائیکاٹ تھا کہ جس کو وزیراعظم نہیں ہونا چاہیے تھا۔"

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف وزیراعظم نواز شریف کے خلاف عدالت سے رجوع کیے ہوئے ہے اور اسے چاہیے تھا کہ وہ ایک مہمان صدر کے خطاب کے موقع پر پارلیمان کے اجلاس میں شرکت کرتی۔

XS
SM
MD
LG