رسائی کے لنکس

ہنگامی حالت کا نفاذ ترک حکام کو اختیار دیتا ہے کہ وہ پارلیمان کی منظوری کے بغیر اقدام کرسکتے ہیں اور شہری حقوق کو معطل کردیں، اظہار رائے پر پابندی لگائیں، اور اخباری اداروں کو بند کردیں۔ مشتبہ افراد کو الزام دائر کیے بغیر قید کیا جاسکتا ہے

ترکی کے پارلیمان نے ملک میں ہنگامی حالت میں تین ماہ کی توسیع کردی ہے، ایسے میں جب حکام نے جلاوطن عالمِ دین، فتح اللہ گولن کے مشتبہ حامیوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔

حکومت نے 15 جولائی کی ناکام بغاوت کےبعد ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا، جس کے لیے کہا جاتا ہے کہ یہ گولن کے حامیوں نے کی تھی۔

ناکام بغاوت کے بعد، پولیس نے گولن تحریک سے مبینہ تعلق کی بنا پر، اب تک 40000 سے زائد افرد کو گرفتار کیا ہے؛ جب کہ 100000 سرکاری کارکنان اور دیگر افراد کو نوکریوں سے معطل کیا گیا ہے۔

گولن امریکہ کی مشرقی ریاست، پنسلوانیا میں رہتے ہیں۔ وہ صدر رجب طیب اردوان کا تختہ الٹنے کی کسی کوشش میں حصہ لینے کی تردید کرتے ہیں۔

ہنگامی حالت کا نفاذ ترک حکام کو اختیار دیتا ہے کہ وہ پارلیمان کی منظوری کے بغیر اقدام کرسکتے ہیں اور شہری حقوق کو معطل کردیں، اظہار رائے پر پابندی لگائیں، اور اخباری اداروں کو بند کردیں۔ مشتبہ افراد کو الزام دائر کیے بغیر قید کیا جاسکتا ہے۔

یورپی یونین نے ترکی کی جانب سے ہنگامی حالت کے نفاذ پر تنقید کی ہے، جب کہ یورپی یونین کی رکنیت کے معاملے پر ترکی سے بات چیت کا سلسلہ منجمد کر دیا گیا ہے، جس پر اردوان نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG