رسائی کے لنکس

یہ انکشاف ایک ایسے وقت سامنا آیا ہے جب انقرہ میں حکومت سازی کے معاملے پر سیاسی مذاکرات پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔

اس بات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنا آنا شروع ہو گئی ہیں کہ ایران پر اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے عائد پابندیوں کے دوران ترکی نے مبینہ طور پر اسے ان پابندیوں کو جُل دینے میں مدد کی۔

ان میں سونے کے ایک ایرانی تاجر کی مبینہ مدد بھی شامل ہے جس کے بارے میں صدر رجب طیب اردوان کہتے ہیں کہ وہ ایک فلاحی کام کرنے والی شخصیت ہیں۔

ترکی کے راستے سونا منتقل کرنے والوں میں سے ایک کا کہنا ہے ہے اردوان کے خاندان سے وابستہ وزرا اور دیگر معاونین کو مبینہ طور پر منتقل کیے جانے والے سونے کی مالیت کا چار فیصد تک بطور رشوت دیا جاتا رہا۔

آدم کارہان نامی اس سہولت کار نے دعویٰ کیا کہ اس نے تقریباً ایک ٹن سونا یومیہ منتقل کرنے میں مدد فراہم کی۔

یہ انکشاف ایک ایسے وقت سامنا آیا ہے جب انقرہ میں حکومت سازی کے معاملے پر سیاسی مذاکرات پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔

صدر اردوان کی جماعت 'جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی' جون میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ اس کے ممکنہ حلیف سابقہ حکومت کے چار وزرا کے خلاف بدعنوانی کی دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔

یہ تحقیقات پہلی مرتبہ 2013ء میں شروع ہوئی تھیں جن میں صدر کا بیٹا بلال اور خاندان کے بعض دیگر لوگ بھی شامل تھے۔

اخبار 'جمہوریت' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کاراہان نے بتایا کہ وہ ایرانی کاروباری شخصیت رضا ضراب کے لیے کام کرتا تھا اور اس کے بقول ترکی کے ہوائی اڈوں سے سونا منتقل کرنے میں 22 لوگوں کے دو گروپ شامل تھے۔

اس نے دعویٰ کیا کہ ان لوگوں کو کسٹم حکام کی طرف سے کبھی بھی کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

"وہ (کسٹم حکام) ہمیں ایئرپورٹ پر خوش آمدید کہتے، ہم انھیں رسیدیں دکھاتے اور وہ ضروری جانچ پڑتا کے بعد سونے کے بکسوں پر نئی مہریں لگا دیتے۔ ان سے ہمیں کبھی کوئی مشکل نہیں ہوئی کیونکہ وہ بھی رشوت لیتے تھے۔ ضراب نے خود انھیں (رشوت) دی اور میں نے خود یہ سب دیکھا۔"

ضراب ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں سے بچ کر رقوم کی غیر قانونی منتقلی اور سونے کی اسمگلنگ کا مبینہ سرغنہ ہے۔

اس پر دیگر 20 افراد، جن میں تین سابق وزرا کے بیٹے، ایک میئر اور دیگر اعلیٰ سیاسی و کاروباری شخصیات شامل ہیں، کو بدعنوانی اور رشوت کے الزامات کے تحت دسمبر 2013ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں اس تحقیقات کو ملک کے اعلیٰ ترین وکیل استغاثہ نے ختم کر دیا تھا اور اس دوران تقریباً 50 مشتبہ افراد کے نام سامنے لائے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG