رسائی کے لنکس

ترکی میں کشیدگی: حکومت، باغیوں کے ایک دوسرے پر الزامات


ترکی کے صوبے دیار باکیر کا وہ قصبہ جہاں چند روز قبل باغیوں اور جنگجووں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی

ترکی کے صوبے دیار باکیر کا وہ قصبہ جہاں چند روز قبل باغیوں اور جنگجووں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی

کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) نے اعلان کیا ہے کہ ترک حکومت کے رویے کے پیشِ نظر اب باغی مزید کسی یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان نہیں کریں گے۔

ترکی میں سرگرم کرد باغیوں نے ترک حزبِ اختلاف کی جانب سے فوجی اہلکاروں اور تنصیبات پر حملے روکنے کی اپیل مسترد کردی ہے۔

ایک جرمن اخبار کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کرد باغی تنظیم 'کردستان ورکرز پارٹی' (پی کے کے) کے رہنما سیمل بائیک نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کی جانب سے حملے روکنے کا مطلب "یک طرفہ جنگ بندی" ہوگا جو قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'پی کے کے' ماضی میں آٹھ بار جنگ بندی کا مطالبہ کرچکی ہے جس پر ترک حکومت نے کبھی مثبت ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترک حکومت کے اس رویے کے پیشِ نظر اب باغی مزید کسی یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان نہیں کریں گے۔

حالیہ چند ہفتوں کے دوران ترک سکیورٹی فورسز اور سرکاری تنصیبات پر کرد باغیوں کے حملوں میں تیزی آنے کےبعد حزبِ اختلاف کے کئی رہنماؤں نے باغیوں سے حملے روکنے اور امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی تھی۔

ترکی میں ہر گزرتے روز کے ساتھ یہ بحث زور پکڑتی جارہی ہے کہ حکومت اور باغیوں کے درمیان جاری امن عمل کی معطلی اور ملک کے کرد اکثریتی جنوب مشرقی علاقے میں تشدد کی حالیہ لہر کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

ترک حکومت کا موقف ہے کہ کرد باغی اپنی مزاحمت ترک کرنے پر کبھی دل سے آمادہ نہیں ہوئے اور مذاکراتی عمل کے دوران بھی اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے تھے۔

اس کے برعکس باغیوں کی نمائندہ تنظیم 'پی کے کے' ترک حکومت پر امن عمل سے پیچھے ہٹنے اور کرد اقلیت کو دیوار سے لگانے کے ہتھکنڈے تیز کرنے کا الزام عائد کررہی ہے جس کے باعث، باغیوں کے بقول، کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ ایک ماہ کے دوران کرد باغیوں کے مختلف حملوں میں اب تک ترک فوج اور پولیس کے 60 اہلکار مارے جاچکے ہیں۔

گزشتہ ماہ شروع ہونے والی کشیدگی اور فریقین کے درمیان جھڑپوں میں اب تک 771 مبینہ جنگجو بھی مارے گئے ہیں جن کی اکثریت ترکی کے جنوب مشرقی اور عراق کے شمالی علاقوں میں باغیوں کے مبینہ ٹھکانوں پر ترک فوج کی بمباری میں ہلاک ہوئی ہے۔

باغیوں نے ترک فوج پر بیشتر حملے سڑک کے کنارے نصب بموں کے ذریعے کیے ہیں جو ترک حکام کے بقول کئی ماہ قبل نصب کیے گئے تھے۔گزشتہ ہفتے کیے جانے والے ایک ایسے ہی حملے میں آٹھ ترک فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

'پی کے کے' نے جولائی کے وسط میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2013ء سے نافذ جنگ بندی کی ترک سکیورٹی فورسز کی جانب سے خلاف ورزیوں کے جواب میں سرکاری تنصیبات اور اہلکاروں پر حملے کرے گی۔

کرد باغیوں کی اس دھمکی کے بعد ترک حکومت واضح کرچکی ہے کہ جب تک "ایک بھی دہشت گرد باقی ہے"اس وقت تک ترک فوج اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔

کردستان ورکرز پارٹی 1984ء سے ترکی کے کرد اکثریتی علاقوں کی آزادی اور الگ ریاست کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد کر رہی ہے جن میں اب تک 40 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ترک حکومت نے 2012ء کے اختتام پر باغی تنظیم کے ساتھ مذاکرات اور کرد اکثریتی علاقوں میں تعمیر و ترقی کے کئی منصوبوں کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہوئی تھی۔

XS
SM
MD
LG