رسائی کے لنکس

ترکی: آزادی صحافت کے تین سرگرم کارکن گرفتار


استنبول میں صحافتی آزادی کے حق میں ایک مظاہرہ۔ فائل فوٹو

استنبول میں صحافتی آزادی کے حق میں ایک مظاہرہ۔ فائل فوٹو

ان تینوں کو دیارباقر میں قائم ایسوسی ایشن آف فری جرنلسٹس کی طرف سے ایک کرد نواز اخبار ’اُزگُر گُندام‘ سے اظہار یکجہتی کے لیے چلائی گئی مہم میں حصہ لینے پر گرفتار کیا گیا

ترکی کے ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی خبروں کے مطابق آزادی صحافت کے تین معروف سرگرم کارکنوں کو پیر کو ’’دہشت گردوں کا پراپیگنڈہ‘‘ پھیلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے جسے صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے صحافتی آزادی پر مزید قدغن قرار دیا ہے۔

حراست میں لیے گئے صحافیوں کی شناخت رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے ترکی میں نمائندے ایرول اوندر اوغلو، ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن ترکی کی صدر شبنم کُرد فنجانجی اور صحافی اور مصنف احمد نِسن کے طور پر کی گئی ہے۔

ان تینوں کو دیارباقر میں قائم ایسوسی ایشن آف فری جرنلسٹس کی طرف سے ایک کرد نواز اخبار ’اُزگُر گُندام‘ سے اظہار یکجہتی کے لیے چلائی گئی مہم میں حصہ لینے پر گرفتار کیا گیا

اخبار میں کرد مسائل پر خبروں کے علاوہ ترک فوج اور کردستان ورکرز پارٹی کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری جنگ پر خبریں دی جاتی تھیں۔

کردستان ورکرز پارٹی کردوں کے لیے خودمختاری چاہتی ہے اور ترک حکومت اسے دہشت گرد تنظیم سمجھتی ہے۔

اخبار کے وکیل اوزجان کیلچ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ تینوں ایک پروگرام میں شریک تھے جس کے تحت ان میں ہر ایک ’اُزگُر گُندام‘ اخبار کے شریک ایڈیٹر کے طور پر کام کر رہا تھا تاکہ ’’عدالتی ہراس کے خلاف اور صحافتی آزادی کے لیے اخبار سے اظہار یکجہتی کیا جا سکے۔‘‘

اوزجان کیلچ نے کہا کہ ’’ہمارے رپورٹروں کو حکومت اور عدلیہ کی طرف سے سخت دباؤ کا سامنا ہے۔ ہمارے مدیران اعلیٰ کی تحقیقات کی گئی ہیں اور انہیں بیرون ملک سفر سے منع کیا گیا ہے۔ ان کے خلاف فوجداری مقدمات ہیں۔‘‘

کیلچ کے مطابق صحافیوں، مصنفوں، اداکاروں، پروفیسروں اور سابق قانون سازوں سمیت 49 افراد نے اخبار کو ادارتی سطح پر مدد کی پیشکش کی تھی۔ ان میں سے 40 کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

’’اور آج تین کو صرف ایک دن کے لیے ’اُزگُر گُندام‘ کے رضاکار مدیر کے طور پر کام کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘‘

ان تینوں نے گرفتاری سے قبل عدلیہ کے دہشتگردی اور منظم جرائم کے بیورو میں پبلک پراسیکیوٹر کے سامنے بیان حلفی دیا۔

پیر کو انسانی حقوق اور آزادی صحافت کی تنظیموں نے جاری تحقیقات اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔

رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز نے ان گرفتاریوں کو ’’ترکی میں آزادی صحافت کے لیے ایک ناقابل یقین پستی‘‘ قرار دیا۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 2015 کی سالانہ پرزن رپورٹ کے مطابق ترکی مسلسل دوسرے سال صحافیوں کو قید کرنے میں دنیا میں سب سے آگے ہے جہاں اس وقت 40 صحافی قید ہیں۔

XS
SM
MD
LG