رسائی کے لنکس

شام کےمسافر طیاروں پر ترکی کی فضائی حدود میں داخلہ ممنوع

  • واشنگٹن

فائل

فائل

ترک حکام نے یہ اعلان اتوار کے دِن کیا، جِس سے چارروز قبل ترکی نے ماسکو سے دمشق جانے والے ایک شامی مسافر طیارے کو اپنی فضائی حدود میں اتارا تھا، اور اُس کے بقول، جہاز میں موجود فوجی رسد کو ضبط کر لیا تھا

ترکی نے کہا ہے کہ اُس نے اپنی فضائی حدود پر سے شام کے مسافر طیاروں کی پرواز پر پابندی عائد کردی ہے، جو بات دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک تازہ ترین مثال ہے۔

ترک حکام نے یہ اعلان اتوار کےدِن کیا، جِس سے چارروز قبل ترکی نے ماسکو سے دمشق جانے والے ایک شامی مسافر طیارے کو اپنی فضائی حدود میں اتار لیا تھا، اور اُس کے بقول، جہاز میں موجود فوجی رسد کو ضبط کر لیا تھا۔

ترکی نے شام پر الزام لگایا ہے کہ وہ سویلین طیاروں کے ذریعے شامی فوج کے لیےاسلحہ لارہا ہے، جسے 18 ماہ سے باغیوں سے لڑائی کا سامنا ہے۔ ترکی نے اِس بات کا عہد کیا ہے کہ ترکی مذموم مقاصد کے لیے اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔

شام نےہفتے کے روز ترکی کے ہاتھوں اُس کے طیارے کو زبردستی اتارے جانے کی کارروائی کو’ فضائی قزاقی‘ قرار دیا، اور ساتھ ہی ترکی کے سویلین طیاروں پر شام کی فضائی حدود سے گزرنے کی ممانعت کر دی تھی۔ یہ اعلان محض علامتی تھا، کیونکہ بدھ کےروز ہونے والے واقعے کے بعد ترکی نے پہلے ہی اپنے طیاروں کو شام کی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کے احکامات جاری کردیے تھے۔

ترکی شامی صدر بشار الاسد کے 11سالہ آمرانہ دور کےخاتمے کی خاطر لڑنے والے باغیوں کے لیے اس خطے میں ایک کلیدی حامی کا درجہ رکھتا ہے۔

شامی فوج کی ترک علاقے پر کی جانے والی گولہ باری کے نتیجے میں پانچ ترک سولینز کی ہلاکت کے واقعے کے جواب کے طور پر ترکی کا توپ خانہ کئی روز تک شام کے اندر گولہ باری کرتا رہا ہے۔

ایک اور خبر کے مطابق، امریکہ میں قائم ’ہیومن رائٹس واچ ‘ کا کہنا ہے کہ حکومت شام کے جہاز اور ہیلی کاپٹر ملک بھر کے کثیر آبادی والے علاقوں پر روس میں تیار کردہ ’کلسٹر بم‘ گراتا رہا ہے۔

اتوار کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ادارے کا کہنا ہے کہ اِن علاقوں کےباشندوں کو اِن کلسٹر بموں کےٹکڑے ملے ہیں، جِن میں معرت النعمان کا قصبہ بھی شامل ہے، جِس پر اِسی ماہ باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا، اور جس کے بعد شمال سے جنوب کی طرف جانے والا فوجی رسد کا اہم راستہ کٹ کر رہ گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG