رسائی کے لنکس

کرد 'عسکریت پسندوں' کے ٹھکانوں پر ترک بمباری


فائل فوٹو

فائل فوٹو

دریں اثناء ترکی کے حکام نے کہا ہے کہ ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے اپنا دورہ ترکی ملتوی کر دیا ہے۔

ترکی کی فوج نے کہا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں کرد باغیوں کے 17 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

منگل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا کہ ان حملوں کا ہدف ایران و عراق کی سرحد کے قریب واقع صوبہ حکاری میں کردستان ورکرز پارٹی "پی کے کے" کے ٹھکانے تھے۔

ان فضائی کارروائیوں سے ایک روز قبل پڑوسی صوبے شرناق میں باغیوں کے مشتبہ حملے میں کم ازکم چار پولیس افسر ہلاک ہوگئے تھے جب کہ رات کو دیر گئے کرد باغیوں نے ایک فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کر کے ایک ترک فوجی کو ہلاک کر دیا تھا۔

گزشتہ ماہ کے اواخر سے ترکی شمال مشرقی عراق میں "پی کے کے" کے اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔ ترک فورسز نے شام میں شدت پسند گروپ داعش کے عسکریت پسندوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی ہیں۔

امریکہ اور یورپی یونین نے گزشتہ ہفتے ترکی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کردوں پر بمباری سے گریز کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کو اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے لیکن اس بارے میں ردعمل "مناسب" ہونا چاہیے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ "پی کے کے" کو چاہیے کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کر کے ترکی کے ساتھ بات چیت شروع کرے۔

کردستان ورکرز پارٹی 1984ء سے ایک خودمختار خطے کے لیے مسلح جدوجہد کرتی آرہی ہے اور اس تنازع کے باعث اب تک چالیس ہزار کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

دریں اثناء ترکی کے حکام نے کہا ہے کہ ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے اپنا دورہ ترکی ملتوی کر دیا ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ نے منگل کو اپنے ترک ہم منصب سے انقرہ میں ملاقات کرنی تھی۔ گزشتہ ماہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کے بعد جواد ظریف کا یہ پہلا دورہ ترکی ہونا تھا۔

ترکی وزارت خارجہ کے مطابق اب یہ دورہ مستقبل میں کسی وقت ہوگا لیکن حکام نے اس التوا کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔

ترک ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ ظریف نے ترکی کی قیادت کو شام کی خانہ جنگی سے متعلق ایرانی منصوبے سے متعلق آگاہ کرنا تھا۔

XS
SM
MD
LG