رسائی کے لنکس

ترکی کا داعش کے 200 جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ


فائل

فائل

ترک وزیرِ اعظم احمد داؤد اولو نے کہا ہے کہ ترک فوج نے شام اور عراق میں گزشتہ دو روز کے دوران ٹینکوں اور توپ خانے سے داعش کے 500 سے زائد ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

ترکی نے استنبول میں دو روز قبل ہونے والے خود کش حملے کے جواب میں شام اور عراق میں داعش کے 200 جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ترک وزیرِ اعظم احمد داؤد اولو نے کہا ہے کہ ترک فوج نے مذکورہ دونوں ملکوں میں گزشتہ دو روز کے دوران ٹینکوں اور توپ خانے سے داعش کے 500 سے زائد ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

وزیرِاعظم اولو نے جمعرات کو انقرہ میں بیرونِ ملک تعینات ترک سفیروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ داعش کے جنگجووں پر بمباری ترکی کی سرحد سے متصل شامی علاقے اور شمالی عراق میں واقع ترک فوج کے ایک اڈے کے نزدیک گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران کی گئی۔

ترک وزیرِاعظم نے اعلان کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو ان کا ملک داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ جب تک ترکی کی سرحد سے متصل علاقوں سے داعش کا وجود ختم نہیں ہوجاتا ان کا ملک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

ترکی داعش کے خلاف امریکہ کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کا سرگرم رکن ہے اور ماضی میں دیگر اتحادی ملکوں کے ہمراہ شام میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرتا رہا ہے۔

لیکن گزشتہ سال نومبر میں ترکی کی جانب سے شام میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پربمباری کرنے والےا یک روسی طیارے کو مبینہ سرحدی خلاف ورزی پر مار گرائے جانے کے بعد سے ترک فضائیہ کے طیارے شام کی فضائی حدود میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔

منگل کو استنبول کے معروف سیاحتی مرکز سلطان احمد اسکوائر پر ہونے والے خود کش حملے میں نو جرمن باشندوں سمیت 10 غیر ملکی سیاح ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے تھے۔

ترک حکام نے خود کش بمبار کو 28 سالہ نبیل فضلی کے نام سے شناخت کیا تھا جو حکام کے بقول شام کا رہائشی اور داعش کا رکن تھا۔

ترک وزیرِداخلہ ایفکان اعلیٰ کے مطابق خود کش حملے سے تعلق کے شبہے میں اب تک سات مشتبہ افراد حراست میں لیے جاچکے ہیں جن میں سے تین روسی شہری ہیں۔

روسی شہریوں کی گرفتاری سے متعلق ترک حکام نے زیادہ تفصیل نہیں بتائی ہے لیکن مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کا تعلق چیچنیا سے ہوسکتا ہے جہاں کے کئی باشندے مبینہ طور پر داعش میں شامل ہوکر شام اور عراق میں لڑائی میں مصروف ہیں۔

XS
SM
MD
LG