رسائی کے لنکس

ترکی: دہشت گردی کے الزامات پر مخالفین کی گرفتاری کا حکم


فائل

فائل

امریکہ نے ترکی کی طرف سے گولین کی حوالگی سے متعلق متعدد التجاؤں پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جو سنہ 1999سے پنسلوانیا میں رہتے رہے ہیں

ترکی کی ایک عدالت نے دہشت گردی کے الزامات پر ٹیلی ویژن اسٹیشن کے سربراہ اور تین پولیس اہل کاروں کی گرفتاری کے باضابطہ احکامات جاری کیے ہیں، تاہم دیگر آٹھ افراد کی رہائی کے حکم دیا ہے، جن میں اخبار کے ایڈیٹر بھی شامل ہیں، جن میں امریکہ سے تحریک چلانے والے ایک مسلمان عالم دین بھی شامل ہیں، جِن پر ترکی کی حکومت کو ہٹائے جانے کی سازش کا الزام ہے۔

ترک میڈیا نے جمعے کو یہ بھی خبر دی ہے کہ استنبول کے استغاثہ نے عدالت سے عالم دین فتح اللہ گولین کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی استدعا کی تھی، جو مسلمان گروپ کی قیادت کرتے ہیں، جسے ’ھزمت‘ (خدمت) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایک دور تھا جب صدر رجب طیب اردگان اُس کے سخت حامی تھے۔

جمعے کے دِن، ’سمان یولو ٹیلی ویژن‘ کے سربراہ، ہدایت کاراکا اور تین پولیس اہل کاروں کو گرفتار کر لیا گیا، جنھیں اس سے قبل اختتام ہفتہ چھاپوں کے دوران دو درجن دیگر افراد کے ہمراہ حراست میں لیا گیا تھا، جس کارروائی کا مقصد مسٹر اردگان کے خلاف سازش کرنے والے افراد کو ہدف بنایا گیا تھا۔

تاہم، عدالت نے حزب مخالف کے اخبار ’زمان‘ کے ایڈیٹر اِن چیف، اکرم دُمانلی کی رہائی کے احکامات دیے ہیں، جنھیں اتوار کے دِن کے چھاپوں کے دوران گرفتار کرلیا گیا تھا۔

گذشتہ دسمبر سے، فتح اللہ گولین مسٹر اردگان کے ساتھ ایک کھلے تنازع میں ملوث رہ چکے ہیں، جب مسٹر اردگان وزیر اعظم تھے جب اُن کے قریبی حلقے کے ارکان کو ہدف بنانے کے لیے بدعنوانی کے الزامات پر چھان بین کی کارروائی عمل میں لائی گئی تھی۔

مسٹر اردگان نے اس چھان بین کے مطالبے کا الزام گولین پر عائد کیا تھا جن کے خیالات مبینہ طور پر ترک اقتدار کے ایوانوں میں سرایت کر گئے تھے۔ تاہم، اس دینی عالم نے اس میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کی ہے۔

امریکہ نے ترکی کی طرف سے گولین کی حوالگی سے متعلق متعدد التجاؤں پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جو سنہ 1999سے پنسلوانیا میں رہتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG