رسائی کے لنکس

وزیر توانائی نے جمعہ کو بتایا کہ اب بھی 18 مزدور لاپتا ہیں۔ گو کہ انھوں نے ان مزدوروں سے متعلق کوئی حتمی بات نہیں بتائی۔

ترکی کے وزیر توانائی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کوئلے کی کان کے حادثے میں مرنے والوں کی تعداد تین سو سے تک ہو سکتی ہے۔

تانیر یلدیز نے جمعہ کو بتایا کہ اب بھی 18 مزدور لاپتا ہیں۔ گو کہ انھوں نے ان مزدوروں سے متعلق کوئی حتمی بات نہیں بتائی لیکن بظاہر یہی توقع کی جا رہی ہے کہ اب سوما میں کوئلے کی اس کان میں پھنسے ہوئے افراد میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا ہو گا۔

ایک روز قبل حکام نے ترکی کی تاریخ کے اس بدترین کان حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 284 بتائی تھی۔

یلدیز نے صحافیوں کو بتایا کہ "ہمارا ماننا ہے کہ کان میں اس وقت 18 سے زیادہ لوگ موجود نہیں ہوں گے۔" ان کا کہنا تھا کہ یہ تعداد مزدوروں کے خاندانوں اور کوئلے کی مالک کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر منبی ہے۔

وزیرتوانائی کا کہنا تھا کہ کان میں لگی آگ اب بھی بھڑک رہی ہے لیکن اس کی شدت میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔

ان کے بقول اس واقعے کے ذمہ دار کو کسی بھی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور "ہم ان کے آنسوؤں کو بھی خاطر میں نہیں لائیں گے۔"

ترکی کے مغربی علاقے سوما میں بدھ کو کوئلے کی کان میں دھماکا اور پھر آتشزدگی سے پیش آنے والے اس حادثے کو بدترین حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حادثے کے وقت کان میں 787 افراد موجود تھے۔

اس واقعے کے بعد ترکی کے مختلف شہریوں میں حکومت کے خلاف امدادی کارروائی اور ردعمل میں سست روی کا الزام عائد کرتے ہوئے سینکڑوں مظاہرین نے احتجاج بھی کیا۔

مزدور یونینز نے جمعرات کو ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا تھا جب کہ سرکاری طور پر ملک میں تین روزہ سوگ منایا جارہا ہے۔
XS
SM
MD
LG