رسائی کے لنکس

ترکی: کرد باغیوں اور متعدد منتخب مقامی رہنماؤں کے خلاف کارروائی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

انسانی حقوق کی بین لاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ترکی کے متعلق ایک تحقییق کار ایما سنکلیر ویب کا کہنا ہے کہ ان مقدمات اور الزامات کی پہلے سے کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔

ترکی میں کرد نواز جماعت کے 18 میئرز اور تقریباً 50 مقامی منتخب نمائندوں کو مقدمات کا سامنا ہے۔

اس ماہ کے اوئل میں وین قصبے کے مئیر کو کالعدم کردستان ورکرز پارٹی 'پی کے کے' کا رکن ہونے کے جرم میں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

انسانی حقوق کی بین لاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ترکی کے متعلق ایک تحقییق کار ایما سنکلیر ویب کا کہنا ہے کہ ان مقدمات اور الزامات کی پہلے سے کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔

"جمہوری طور پر منتخب نمائندوں کے خلاف یہ ایک سنگین اقدام ہے، میئرز کو ماضی میں بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور انہیں گرفتار کر کے جیل میں بھی بند کیا گیا ہے۔ تاہم اس دفعہ ان کو جن الزامات کا سامنا ہے ان کی پہلے سے کوئی مثال نہیں ہے۔ بنیادی طور پر ان کو ان جرائم کے تحت زندگی جیل میں گزارتی پڑتی ہے جن کا دہشت گردی، تشدد یا مہلک کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے"۔

ان نمائندوں کی طرف سے کرد علاقے کے لیے خود مختاری کے مطالبات کے متعلق بیانات سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف زیادہ تر الزامات حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے کے عائد کیے گئے ہیں۔

گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے ترک سکیورٹی فورسز جنوب مشرق کے زیادہ تر کرد اکثریت والے علاقوں میں واقع قصبوں اور شہروں سے 'پی کے کے' کے باغیوں کی موجودگی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیراعظم احمد داؤد اغلو نے (ان) نمائندوں کے خلاف استغاثہ کی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ میئرز باغیوں کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میئرز عوام کا پیسہ مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں اور کاموں میں خرچ اور دہشت گردوں کے لیے انتظامی مرکز کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

تاہم استنبول کی سلیمانیہ یونیورسٹی سے منسلک سیاسی امور کے ماہر چنگیز اختر کا کہنا ہے کہ یہ وہ پالیساں ہیں جو ریاست اس وقت سے استعمال کر رہی ہیں جب سے پی کے کے نے 1984 میں مسلح کارروائیاں شروع کی تھی۔

XS
SM
MD
LG