رسائی کے لنکس

ترکی: ایئرپورٹ حملے کے بعد چھاپوں میں 13 افراد گرفتار


اتاترک ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ترکی کا پرچم سرنگوں۔

اتاترک ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ترکی کا پرچم سرنگوں۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ترکی کے ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق روس، ازبکستان اور کرغزستان سے تھا۔

ترکی کے ذرائع ابلاغ نے جمعرات کو کہا ہے کہ پولیس نے استنبول ہوائی اڈے پر حملے کے بعد مارے گئے چھاپوں میں 13 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

یہ گرفتاریاں استنبول میں 16 مقامات پر چھاپوں کے بعد کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے 13 افراد میں سے کم از کم تین افراد غیر ملکی ہیں۔

منگل کی شام کو اتاترک ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں تین خود کش حملہ آوروں نے 42 افراد ہلاک اور 239 کو زخمی کر دیا تھا۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ترکی کے ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق روس، ازبکستان اور کرغزستان سے تھا۔

ترکی کے سرکاری خبررساں ادارے اناطولو کے مطابق حکام نے مغربی ساحلی شہر ازمیر میں بھی شام میں داعش سے تعلقات کے شبہ میں نو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان افراد پر اس شدت پسند گروہ کی مالی معاونت، بھرتیوں اور رسد میں مدد کا الزام ہے۔

ترک حکام نے ایئرپورٹ حملے کی ذمہ داری داعش پر عائد کی ہے اگرچہ شدت پسندوں نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

وزیراعظم بن علی یلدرم نے بدھ کو کہا کہ حملوں کی تحقیقات جاری ہیں مگر اب تک سامنے آنے والے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں داعش ملوث ہے۔

انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ یہ حملہ روس اور اسرائیل کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں بہتری کی کوششوں کا ردعمل ہو سکتا ہے۔

یورپ کے تیسرے مصروف ترین ایئرپورٹ پر ہونے والا یہ حملہ گزشتہ ایک سال کے دوران ترکی میں بم حملوں کا تازہ ترین واقعہ تھا جن میں اب تک 260 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

دہشت گردی سے ترکی کی سیاحت کی صنعت شدید متاثر ہوئی ہے جس پر ملکی معیشت کا بھاری انحصار ہے۔

استنبول میں ہونے والے دیگر دو حملوں کا الزام بھی داعش پر عائد کیا گیا تھا جن میں غیرملکی سیاحوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ترکی میں باغی کردستان ورکرز پارٹی نے بھی خود کش حملے کیے ہیں مگر ان کا عمومی ہدف سکیورٹی فورسز ہوتی ہیں۔

رواں ماہ کردستان ورکرز پارٹی کی طرف سے ایک پولیس بس پر حملے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG