رسائی کے لنکس

ترکی میں نئے دفاعی میزائل نظام کی تیاری


فائل فوٹو

فائل فوٹو

میزائل دفاعی نظام مقامی ساختہ ہے جو کہ چار سے 70 کلومیٹر فاصلے سے مار کیے گئے میزائلوں کو روکنے اور تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ترکی شدت پسند گروپ داعش کی طرف سے اپنے شہروں پر راکٹ حملوں سے بچنے کے لیے ایک نیا میزائل دفاعی نظام تیار کر رہا ہے جو کہ اب اپنی آخری مراحل میں ہے۔

وزیر دفاع فکری اسحاق کا کہنا ہے کہ یہ نظام گزشتہ 18 ماہ سے تیار کیا جا رہا تھا اور رواں ہفتے اس کے آخری مرحلے کا تجربہ کیا جائے گا۔

"سی این این ترک" سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ "داعش کے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ کتیوشا کی مزاحمت ہمارے لیے آسان نہیں رہی۔ یہ (نیا میزائل دفاعی نظام) کتیوشا کو روک سکے گا۔"

گزشتہ ایک سال کے دوران شمالی شام کے ساتھ ترکی کے سرحدی علاقوں میں راکٹ داغے جاتے رہے ہیں جن میں کم ازکم 21 لوگ مارے گئے۔

اگست میں ترکی فوج اور ان کے حمایت یافتہ باغی شام کی سرحد میں داخل ہو گئے تھے اور سرحدی علاقوں سے داعش کے جنگجوؤں کو مار بھگایا تھا۔

شدت پسندوں کے اہداف پر ترک فورسز کی گولہ باری کے باوجود گزشتہ ہفتے داعش نے ترک سرحدی علاقے کیلیس میں راکٹ داغے تھے۔

ترکی کا نیا میزائل دفاعی نظام اسرائیل کے نظام "آئرن ڈوم" سے مشابہت رکھتا ہے جو کہ اس نے غزہ کی پٹی سے حماس کے راکٹ حملوں سے بچنے کے لیے تیار کیا تھا اور یہ خاصا کامیاب رہا ہے۔

ترکی کا میزائل دفاعی نظام مقامی ساختہ ہے جو کہ چار سے 70 کلومیٹر فاصلے سے مار کیے گئے میزائلوں کو روکنے اور تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دفاعی امور کے ماہر اور صحافی متیہان دمیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگر توقع کے مطابق یہ دفاعی نظام تیار ہو جاتا ہے تو یہ داعش کے لیے خلاف بہت موثر ہوگا۔

XS
SM
MD
LG