رسائی کے لنکس

ترکی نے ’روس کا جنگی طیارہ‘ مار گرایا


ترک ایف سولہ طیارہ (فائل فوٹو)

ترک ایف سولہ طیارہ (فائل فوٹو)

ترکی کی فوج نے کہا ہے کہ پانچ منٹ کے دورانیے میں روسی طیارے کو دس مرتبہ متنبہ کیا گیا کہ وہ ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے بعد اسے مار گرایا گیا۔

ترکی کے حکام نے کہا ہے کہ فضائی حدود کی خلاف ورزی پر کئی بار انتباہ کے بعد ترک جنگی طیاروں نے روسی ساخت کے ایک جنگی جہاز کو شام کی سرحد کے قریب منگل کو مار گرایا۔ مگر روس کا کہنا ہے کہ وہ یہ ثابت کر سکتا ہے کہ طیارہ شامی حدود سے باہر نہیں گیا۔

روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ’’ہم روسی طیارہ گرنے کی وجوہات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ وزارت دفاع اس بات پر زور دینا چاہے گی کہ طیارہ اپنی پرواز کے دوران تمام وقت شامی حدود میں ہی رہا۔‘‘

روس نے کہا ہے کہ اس کا طیارہ زمین سے مار کر کے گرایا گیا، مگر ترکی کا دعویٰ ہے کہ اس کے ایف سولہ طیاروں نے متعدد بات انتباہ کے بعد روسی جہاز کو گرایا۔ روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ طیارے کے پائلٹ پیراشوٹ کے ذریعے نیچے اتر گئے مگر وہ ان سے رابطے میں نہیں۔

اس واقعے کی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک جنگی جہاز کو آگ لگی ہے اور اس کا عملہ پیراشوٹ کے ذریعے بظاہر بحفاظت نکل گیا۔ بعد میں طیارہ پہاڑوں میں جا گرا۔

ترکی کی فوج نے کہا ہے کہ پانچ منٹ کے دورانیے میں طیارے کو دس مرتبہ انتباہ کیا گیا کہ وہ ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے بعد اسے مار گرایا گیا۔

شام میں جنگ پر نظر رکھنی والی ایک تنظیم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ جنگی جہاز لاذقیہ صوبے کے شمالی علاقے میں پہاڑوں پر گر کر تباہ ہوا جہاں اس سے قبل فضائی بمباری کی گئی تھی۔ اس علاقے میں شام کی فورسز باغیوں سے برسرپیکار ہیں۔

گزشتہ ماہ ترک جنگی طیاروں نے ایک نامعلوم ڈرون کو مار گرایا تھا جو ترکی کے بقول ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔

XS
SM
MD
LG