رسائی کے لنکس

ترکی: توانائی کے ذرائع میں وسعت کی کوششیں

  • ڈورین جونز

ترکی پر ایران سے تیل کی درآمد روکنے کے لیے سخت دباؤ پڑ رہا ہے۔ اس پس منظر میں ترکی کے وزیرِ توانائی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے توانائی کے ذرائع میں وسعت پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکی وزیرِخارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ سفارتکار ترکی کو ایران کے خلاف امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی تعمیل پر آمادہ کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

ایران کے خلاف یہ پابندیاں اس کے متنازعہ نیوکلیئر پروگرام کی وجہ سے عائد کی گئی ہیں۔

وزیرِ خارجہ کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ ترکی کی طرف سے ایران کی توانائی کے استعمال پر انقرہ کے ساتھ لگی لپٹی رکھے بغیر صاف بات چیت میں مصروف ہے۔ لیکن بین الاقوامی امور کے ماہر، ترک اخبار ’حیباترک‘ کے صولیی اوزل کہتے ہیں کہ ترکی کے لیے امریکہ کی خواہش کے مطابق عمل کرنا آسان نہیں ہو گا۔

’’ترکی اپنی ضرورت کی گیس کا 20 فیصد حصہ ایران سے حاصل کرتا ہے۔ لہٰذا ترکی کے لیے پابندیوں کی تعمیل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اور اسے اپنی اشیاء ٹرکوں کے ذریعے وسطی ایشیا کے ملکوں تک بھیجنے کے لیے ایران کی ضرورت ہو گی۔ میرے خیال میں ترکی کے لیے ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات مکمل طور سے ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ وہ اس معاملے میں کوئی درمیانی راہ نکال سکتا ہے یا نہیں، یہ ہمیں ابھی دیکھنا ہے‘‘۔

ایران ترکی کو اس کی تیل کی درآمد کا ایک تہائی حصہ بھی فراہم کرتا ہے۔ ترک وزارتِ خارجہ نے بار بار کہا ہے کہ ترکی ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں کی تعمیل نہیں کرے گا اور صرف ان پابندیوں پر عمل کرے گا جو اقوامِ متحدہ نے عائد کی ہیں۔

لیکن ترکی کے وزیرِتوانائی طینر یلدیز نے منگل کے روز کہا کہ وہ ترکی کے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کو سزا دینا نہیں ہے۔

لندن میں قائم مشاورتی فرم بیٹا میٹررکس کے میحراد عمادی کہتے ہیں کہ گیس کے حصول کے متبادل ذرائع کے لیے ترکی کو زیادہ دور نہیں دیکھنا پڑے گا۔

’’ترکی کی ضرورت کا 20 فیصد، خاصی بڑی مقدار ہے۔ لیکن سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات میں جو کشیدگی پیدا ہو رہی ہے اس کی روشنی میں، میرا قیاس یہ ہے کہ سعودی عرب، ترکی کی توانائی کی ضرورتیں بخوشی ایران جیسی قیمت پر، پوری کرنے پر تیار ہو جائے گا۔ اور اس کے ساتھ ہی سعودی عرب کی نظر میں ترکی کی قدر و منزلت بھی بڑھ جائے گی‘‘۔

سعودی عرب نے دوسرے ملکوں کو بھی جو ایران کے توانائی کے ذرائع کے سوا دوسرے وسائل تلاش کر رہے ہیں، ایسے ہی سودوں کی پیشکش کی ہے۔ لیکن عمادی کہتے ہیں کہ انقرہ پر دباؤ میں اس لیے بھی روز بروز اضافہ ہو رہا ہے کیوں کہ ایران کے ساتھ اس کے مالیاتی تعلقات بڑھ رہے ہیں۔

’’ترکی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھتی رہی ہے کیوں کہ وہ ایرانی تجارتی ایجنٹوں اور باہر کی دنیا کے ساتھ مالیاتی سودوں میں آسانیاں فراہم کرتا رہا ہے‘‘۔

گذشتہ چند مہینوں کے دوران، ترکی کے سرکاری بینک، حلک بینک نے نہ صرف ترکی کی طرف سے ایرانی توانائی کی خریداری میں آسانیاں فراہم کی ہیں، بلکہ بھارت کی طرف سے ایرانی توانائی کی خریداری میں بھی۔

اب جب کہ تہران کے خلاف بین الاقوامی مالیاتی پابندیاں سخت سے سخت تر ہوتی جا رہی ہیں، مبصرین کہتے ہیں کہ حلک بینک ہی ایک ایسا ذریعہ باقی رہ گیا ہے جس کے ذریعے دنیا کے ملک ایرانی توانائی کی قیمت ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن واشنگٹن اور برسلز کی جانب سے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ یہ طریقہ ختم کیا جائے۔

یورپی پارلیمینٹ میں ترکی کے امور کے لیے سوشلسٹ بلاک کے ترجمان رچرڈ ہوویٹ کے مطابق ایران پر عائد کردہ پابندیوں کے بارے میں ترکی نے جو موقف اختیار کیا ہے، اس کی وجہ سے یورپی یونین کے ساتھ اس کے تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔ لیکن ہوویٹ کہتے ہیں کہ حالیہ واقعات سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔

’’ایران کے معاملے میں ترکی پر اعتماد میں کچھ کمی آئی ہے، اور اس نے پابندیوں کی جو مخالفت کی ہے، اس سے عوامی سطح پر بھی اس کی حمایت کم ہوئی ہے۔ ہم نے اقوامِ متحدہ میں اور یورپی یونین کی سطح پر ان معاملات کو ٹھیک کرنے پر سخت محنت کی ہے۔ لیکن ترکی نے میزائل کے دفاعی نظام کے بارے میں جو فیصلہ کیا ہے اس سے واقعی بڑا فرق پڑا ہے، اور ترکی ، ایران کے معاملے میں، دوسرے ملکوں کا ہمنوا ہو گیا ہے‘‘۔

ترکی کے اس فیصلے پر کہ وہ نیٹو کے میزائل شکن دفاعی نظام میں، جس کا ہدف بنیادی طور پر ایران ہے تہران کی طرف سے سخت مذمت کی گئی۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی اس لیے پیدا ہوئی ہے کیوں کہ ترکی نے شام کی حکومت کے مخالف عناصر کی شدت سے حمایت کی ہے اور شام کی حکومت تہران کی مضبوط اتحادی ہے۔

ترکی اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات میں سرد مہری کا اظہار دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں کمی سے ہوا۔ جنوری میں تجارت کم ہو کر 65 فیصد رہ گئی ۔ 2011ء کے دوران ترکی میں ایرانی کاروباری سرگرمیوں میں 41 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔

بین الاقوامی امور کے ماہر اوزل کہتے ہیں کہ دو طرفہ کشیدگیوں کے باوجود، ترکی اب بھی ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بحران کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

’’ایرانیوں کا خیال ہے کہ وہ ترکوں پر زیادہ اعتماد کر سکتے ہیں۔ شام اور عراق میں ایران کے ساتھ سخت مقابلہ جاری ہے، لیکن نیوکلیئر مسئلے میں، میرے خیال میں، ایرانیوں کے لیے ترکوں کا اثر و رسوخ اب بھی ایرانیوں کے لیے مفید ہے‘‘۔

اس ہفتے ترک وزیرِ خارجہ احمد داؤد اوگلو نے اس امید کا اظہار کیا کہ نیوکلیئر پروگرام کے سلسلے میں، بین الاقوامی برادری اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور ہو گا۔

مذاکرات کے آخری دور کی میزبانی استنبول نے کی تھی۔ یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے اور ایک دوسرے پر الزام تراشیوں پر ختم ہوئے۔ لیکن مبصرین کہتے ہیں کہ ایک سال بعد، جب اسرائیل کی جانب سے پیشگی فوجی حملے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے اور اقتصادی پابندیاں اور سخت ہو گئی ہیں، سفارتی حل کے لیے طاقتور ترغیبات موجود ہیں، اگرچہ یہ بھی صحیح ہے کہ وقت اب بہت تنگ ہو گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG