رسائی کے لنکس

ترکی یورپی یونین میں شمولیت کے لیے پرامید

  • ڈوریان جونز

یورپی یونین کی رکنیت کے لیے ترکی کے وزیر Ergemen Bagis

یورپی یونین کی رکنیت کے لیے ترکی کے وزیر Ergemen Bagis

ترکی نے یورپی یونین میں شمولیت کے مذاکرات 2005 میں شروع کیے تھے، لیکن یہ عمل انتہائی سست رہا ہے۔

ترکی نے اس رپورٹ پر سخت تنقید کی ہے جو یورپی یونین نے ترکی کی یورپی یونین کی رکنیت کی شرائط پوری کرنے کے بارے میں اکتوبر میں شائع کی تھی اور کہا ہے کہ یہ رپورٹ تعصب اور تنگ نظری پر مبنی ہے۔ ترکی نے اس ہفتے اس رپورٹ کے جواب میں اپنی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس تلخی کے باوجود، ترکی کو امید ہے کہ اب جب کہ یورپی یونین کی صدارت آئر لینڈ کو ملنے والی ہے، اس کی رکنیت کی درخواست پر ایک بار پھر غور کیا جائے گا۔

اس ہفتے ترکی نے ایک غیر معمولی اقدام کیا۔ اس نے یورپی یونین کی اس رپورٹ کے جواب میں جس میں ترکی میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے بارے میں تشویش ظاہر کی گئی تھی، خود اپنی رپورٹ شائع کی جس میں یورپی یونین میں شمولیت کی شرائط پوری کرنے کے لیے اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ پیش کیا گیا ۔

270 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں، یورپی یونین کی رکنیت کے لیے ترکی کے وزیر Ergemen Bagis نے دعویٰ کیا کہ ترکی پر جو تنقید کی گئی ہے وہ تنگ نظری اور سیاست پر مبنی ہے ۔

ترکی کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان Selcuk Unal نے کہا کہ ان کے ملک کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے ۔’’شمولیت کے مذاکرات میں مسلسل جاری تعطل نا قابلِ قبول ہے ۔ مذاکرات کے آٹھ ابواب بلاک کر دیے گئے ہیں۔ کونسل نے آٹھ ابواب 2006 ء میں بلاک کیے تھے، فرانس نے چھ اور یونانی قبرصیوں نے چھ چیپٹر بلاک کر دیے ہیں۔ لہٰذا شمولیت کے مذاکرات میں تعطل سے اس پورے عمل کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔‘‘

ترکی نے یورپی یونین میں شمولیت کے مذاکرات 2005 میں شروع کیے تھے، لیکن یہ عمل انتہائی سست رہا ہے۔

اب تک مذاکرات کے صرف چند ہی چیپٹرز کھولے گئے ہیں اور صرف ایک چیپٹر ہی مکمل ہوا ہے۔

فرانس، جرمنی، آسٹریا اور یورپی یونین کے بہت سے بڑے بڑے سیاست داں ترکی کو پوری رکنیت دینے کے خلاف ہیں۔

لیکن بین الاقوامی تعلقات کے ماہر، استنبول کی Kadir Has University کے سولی اوزل کہتے ہیں کہ یورپی یونین کی صدارت آئرلینڈ کے پاس جانے سے، ترکی اور یورپی یونین کے تعلقات میں اہم تبدیلی آ سکتی ہے۔’’ یورپی یونین کے صدارت کے لیے آئر لینڈ اچھا ملک ہے ۔ ترکی سے اس کے تعلقات اچھےہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ترکوں کو آئر لینڈ کے لوگ اچھے لگتے ہیں۔ ترکی اور یورپی یونین کے مذاکرات میں ہو سکتا ہے کہ آپ کو صحیح سمت میں کچھ حرکت ہوتی نظر آئے ۔‘‘

یورپی یونین کی صدارت آئر لینڈ کو ملنے سے ترکی میں ان توقعات میں اضافہ ہو رہا ہے کہ پیرس کی طرف سے ترکی کی رکنیت کی درخواست کی مخالفت کچھ کم ہو جائے گی ۔ فرانس کے نئے صدر فرانسسو اولاندے اپنے پیشرو نکولس سارکوزی کے برخلاف ترکی کی رکنیت کے اتنے سخت مخالف نہیں ہیں۔


ترکی کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان Unal کہتے ہیں کہ محتاط خوش امیدی کی گنجائش موجود ہے۔’’ہم یورپی یونین کے شراکت داروں اور ان ملکوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں جو ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے حامی ہیں۔ ہمیں کچھ مثبت اشارے ملےہیں۔ لیکن ابھی ٹھوس نتائج کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔‘‘

استنبول کے تحقیقی ادارے Edam کے سربراہ Sinan Ulgen کے مطابق، حالیہ برسوں کی لا تعلقی کے بعد، ترکی اب یورپی یونین کی طرف اپنے رویے کا نئے سرے سے جائزہ لے رہا ہے ۔

’’وزیرِ خارجہ احمد داوتغلو کو احساس ہو گیا ہے کہ عرب موسمِ بہار سے متاثر ہونے والے ملکوں میں حالات کہیں زیادہ پیچیدہ ہوں گے اور ان ملکوں کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں بھی ، ابتدائی اندازوں کے مقابلے میں زیادہ دشواریاں پیش آئیں گی ۔ لہٰذا ترکی اپنی سیکورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے مغرب میں اپنے روایتی شراکت داروں کے ساتھ اپنے اتحاد پر توجہ دے رہا ہے ۔ یہ بات خاص طور سے امریکہ کے ساتھ ، لیکن کچھ حد تک یورپی یونین کے ساتھ تعلقات پر بھی صادق آتی ہے ۔‘‘

ترکی کی جاندار معیشت اور بڑی منڈی سے بھی یورپی یونین کو ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط بنانے کی ترغیب مل سکتی ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں نے انتباہ کیا ہے کہ اگر ترکی کو اپنی رکنیت کی درخواست کی جامد کیفیت سے نکلنا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسے انسانی حقوق کے بارے میں یورپی یونین کی تشویش پر توجہ دینا ہو گی۔
XS
SM
MD
LG