رسائی کے لنکس

پارلیمانی اجلاس کے افتتاح کے موقعے پر قانون سازوں سے گفتگو کرتے ہوئے، رجب طیب اردوان نے کہا کہ اب برسلز کے لیے وہ لمحہ آچکا ہے جب فیصلہ کیا جانا چاہیئے، آیا ترکی کو مکمل رُکن کا درجہ دیا جائے گا یا نہیں، جب کہ اُنھوں نے کہا کہ ترکی تیار ہے

ترکی کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ اُن کے ملک کی جانب سے یورپی یونین کی رکنیت کے حصول کی عشرہ پرانی کوششوں کے ’’فیصلے کا وقت‘‘ آ چکا ہے۔

پارلیمانی اجلاس کے افتتاح کے موقعے پر قانون سازوں سے گفتگو کرتے ہوئے، رجب طیب اردوان نے کہا کہ اب برسلز کے لیے وہ لمحہ آچکا ہے جب فیصلہ کیا جانا چاہیئے، آیا ترکی کو مکمل رُکن کا درجہ دیا جائے گا یا نہیں، جب کہ اُنھوں نے کہا کہ ترکی تیار ہے۔

اردوان نے ویزے میں نرمی کے سمجھوتے کے خاتمے پر نکتہ چینی کی، جس پر اس ماہ سے عمل درآمد ہونا تھا۔ بقول اُن کے، ’’یہ معاملہ اس اعلان کے مترادف ہے کہ یورپی یونین وہ وعدہ وفا نہیں کرنا چاہتا جو اُس نے ترکی سے کر رکھا ہے‘‘۔

اُنھوں نے بیلجئم سے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ماہ سے یورپی یونین ترکوں کو ویزا کے بغیر سفر کی اجازت دے، جو ترکی کے ساتھ کیے گئے اُس سمجھوتے کی پاسداری ہوگی جس کا مقصد اُن ہزاروں تارکین وطن کو بحیرہٴ ایجئن سے یونان جانے سے روکنا تھا۔

گیارہ ستمبر کو امریکہ پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے متاثرین کے لواحقین کو سعودی عرب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی اجازت سے متعلق قانون سازی پر صدر براک اوباما کے ویٹو کو مسترد کرنے پر، اردوان نے امریکی کانگریس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ’’بدقسمتی‘‘ ہے، اور اس توقع کا اظہار کیا کہ اسے جلد از جلد واپس لیا جائے گا۔

شام میں اپنے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے، گذشتہ ماہ کے دوران ترکی اور سعودی عرب نے اپنے تعلقات کو فروغ دیا ہے۔ اردوان نے حال ہی میں صدارتی محل میں سعودی عرب کے ولی عہد، محمد بن نائف کے ساتھ ملاقات کی۔

پندرہ جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد، یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی ہے۔

ترکی نے یہ کہتے ہوئے امریکہ میں مقیم عالم دین، فتح اللہ گولن کو ملک بدر کرنے کی درخواست کر رکھی ہے، کہ اردوان کا یہ سابق اتحادی بغاوت کی منصوبہ بندی میں ملوث ہے، جس سازش میں فوج کے باغی اہل کاروں کا ٹولا شامل تھا۔

دوسری جانب، یورپی یونین کے اہل کار بغاوت کے مبینہ منصوبہ سازوں اور حامیوں کے خلاف ترکی کی سخت کارروائی کے سب سے بڑے ناقد ہیں۔

XS
SM
MD
LG