رسائی کے لنکس

ترکی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کرنے کے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنے والے ترک فوج کے سابق سربراہ نے منگل کو عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کیا۔

فوج کے سابق سربراہ الکر باسبگ اس وقت عدالتی کاروائی سے واک آؤٹ کرگئے جب استغاثہ کے وکلا نے عدالت کو مبینہ سازش کے دو دیگر ملزمان کے درمیان فون پر ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ سنائی۔

سابق آرمی چیف نے مقدمہ کی کاروائی میں ریکارڈنگ ٹیپ کے استعمال پر شدید برہمی ظاہر کی اور بطورِ احتجاج عدالت سے اٹھ کر چلے گئے۔

قبل ازیں باسبگ نے عدالت کے سامنے 'ارجنکان' کے نام سے معروف مبینہ سازش میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کی تھی اور عدالت کا اختیار تسلیم کرنے اور مقدمے میں اپنا دفاع کرنے سے انکار کردیا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق باسبگ بائیکاٹ کے کچھ دیر بعد دوبارہ کمرہ عدالت میں لوٹ آئے۔

استغاثہ کے مطابق فوجی افسران کی ایما پر تیار کی جانے والی اس سازش کا مقصد ملک میں دہشت گردی کی وارداتیں کرکے وزیرِاعظم رجب طیب اردوان کی حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔

مقدمے کی سماعت استنبول کے نزدیک واقع 'سلیوری' نامی قید خانے میں موجود عدالت میں کی جارہی ہے جہاں سابق فوجی سربراہ جنوری سے قید ہیں۔

باسبگ 'ارجنکان' سے تعلق کے شبہ میں حراست میں لیے گئے سب سے سینئر فوجی افسر ہیں۔ ترک حکومت کے مطابق لادین افراد پر مشتمل یہ نیٹ ورک بم دھماکوں اور دہشت گردی کی دیگر کاروائیوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا تاکہ ترکی کی اسلام پسند حکومت کو بدنام کرکے فوجی بغاوت کی راہ ہموار کی جاسکے۔

سابق فوجی جنرل کے خلاف مقدمے کی کاروائی کا آغاز گزشتہ روز ہوا تھا جس میں ان پر مبینہ سازش کی قیادت کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ باسبگ نے انٹرنیٹ پر مہم چلا کر بھی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی تھی۔ سابق فوجی سربراہ نے خود پر عائد الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG