رسائی کے لنکس

ترکی: سازش کے الزام میں سابق فوجی سربراہ کو عمر قید


سیلوری جیل کے احاطے کے باہر تعینات سکیورٹی فورسز

سیلوری جیل کے احاطے کے باہر تعینات سکیورٹی فورسز

'ارگنیکون' کے نام سے مشہور اس مقدمے کی سماعت کرنے والی ایک خصوصی عدالت نے پیر کو سینکڑوں ملزمان کو فرداً فرداً سزائیں سنانے کے عمل کا آغاز کیا۔

ترکی کی ایک عدالت نے حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام ثابت ہونے پر فوج کے سابق سربراہ کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

فوج کے سابق سربراہ جنرل الکر باس بک ترک وزیرِاعظم رجب طیب ایردوان کی اسلام پسند حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں قید ڈھائی سو سے زائد ملزمان میں سب سے نمایاں شخصیت ہیں۔

'ارگنیکون' کے نام سے مشہور اس مقدمے کی سماعت کرنے والی ایک خصوصی عدالت نے پیر کو سینکڑوں ملزمان کو فرداً فرداً سزائیں سنانے کے عمل کا آغاز کیا۔

عدالت نے مقدمے کے تین دیگر نامزد ملزمان اور حزبِ اختلاف کی جماعت 'ری پبلکن پیپلز پارٹی' کے تین موجودہ اراکانِ پارلیمان کو بھی 12 سے 35 سال قید کی سزائیں سنائی ہیں جب کہ 21 نامزد ملزمان کوبری کر دیا ہے۔

وزیرِ اعظم رجب طیب ایردوان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں مبینہ طور پر شریک 275 افراد میں اعلیٰ فوجی افسران، سیاست دان، شعبہ تعلیم سے منسلک شخصیات اور صحافی بھی شامل ہیں جو استغاثہ کے مطابق ایک زیرِ زمین قوم پرست تنظیم 'ارگنیکون' کے رکن تھے۔

استغاثہ کا الزام ہے کہ تنظیم کے ارکان نے پرتشدد کاروائیاں اور بم دھماکے کرکے ملک میں افراتفری پھیلانے اور اس کی آڑ میں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کی تھی۔

ملزمان کو جرم ثابت ہونے کی صورت میں چند برس سے لے کر عمر قید تک کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عدالتی فیصلوں کے بعد پانچ سال سے جاری یہ مقدمہ اپنے انجام کو پہنچ جائے گا جو گزشتہ برسوں میں ترکی کے آزاد خیال اور سیکولر حلقوں اور جناب ایردوان کی اسلامی رجحانات رکھنے والی جماعت 'اے کے پی' کے درمیان تناؤ کی بڑی وجہ بنا رہا ہے۔

عدالت کی جانب سے سزائوں کے اعلان کے موقع پر سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت استنبول کے قریبی قصبے سیلیوری میں جاری عدالتی سماعت تک عام افراد کی رسائی محدود کر دی ہے اور صرف ملزمان، اُن کے وکلاء اور صحافیوں کو عدالتی احاطے میں داخلے کی اجازت ہے۔

اگرچہ استغاثہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ملزمان مختلف حیثیت میں حکومت مخالف سازش میں ملوث ہیں، لیکن ناقدین کے بقول حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والے نمایاں افراد اور سیکولر شخصیات اس عدالتی کارروائی کا ہدف بنے ہیں۔

عالمی برادری نے بھی اس مقدمے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی حقوقِ انسانی سے متعلق سالانہ رپورٹ میں بھی مقدمے کی کارروائی کے آغاز سے قبل ملزمان کی طویل عرصہ تک حراست پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

حقوق انسانی کی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے بھی مقدمے کی منصفانہ حیثیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کو ہدف تنقید بنایا ہے۔
XS
SM
MD
LG