رسائی کے لنکس

ترکی: تختہ الٹنے کی سازش، سابق فوجی سربراہ گرفتار


سابق جنرل الکر باسبوگ

سابق جنرل الکر باسبوگ

ترک وزیراعظم رجب طیب اردوان کی حکومت ختم کرنے کے ایک مبینہ منصوبے کے الزام میں فوج کے سابق سربراہ کو جمعہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

جنرل الکر باسبوگ کے وکیل کا کہنا ہے کہ ایک دہشت گرد تنظیم کی قیادت کے الزام میں باسبوگ کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔

مبینہ طور پر اردوان کی اسلامی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے انٹرنیٹ پر شروع کی گئی ایک مہم میں باسبوگ کی شمولیت کے شبہ میں وکیل استغاثہ نے ایک روز قبل ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔

ترکی کے ذرائع ابلاغ نے رواں ہفتے خبر دی تھی کہ سیکولر نیٹ ورک ’ارگن کون‘ سے وابستہ حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسروں کے مقدمے کے تناظر میں سابق جنرل کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا ۔

ترک عہدیداروں نے ارگن کون کا حصہ ہونے کے شبے میں تین سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں صحافی، اساتذہ اور سیاستدان بھی شامل ہیں۔

اس مقدمے کو ترکی میں آزادی صحافت سے متعلق بین الاقوامی توجہ حاصل ہوگئی ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس گروپ نے 2003ء میں رجب طیب اردوان کی حکومت ختم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جس میں بم دھماکوں اور دیگر حملوں کے ذریعے حکومت کو ناکام اور حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے خلاف فوجی بغاوت کو بڑھاوا دینا تھا۔

ترک فوج نے 1960ء سے 1997ء تک چار حکومتوں کو ختم کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG