رسائی کے لنکس

ترکی شامی پناہ گزینوں کو 'زبردستی' واپس بھیج رہا ہے: ایمنسٹی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایمنسٹی کے مطابق جبراً شام واپس بھیجے جانے والوں میں بچے اور آٹھ ماہ کی حاملہ خاتون بھی شامل ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم "ایمنسٹی انٹرنیشنل" نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ترکی جنوری سے مبینہ طور پر روزانہ ایک سو کے لگ بھگ شامی پناہ گزینوں تحویل میں لینے کے علاوہ زبردستی اُنھیں واپس ان کے ملک بھیج رہا ہے۔

جمعہ کو تنظیم نے رپورٹ میں بتایا کہ جنوبی ترکی میں یہ ایک "کھلا راز" ہے اور اس کے بقول ترکی اور یورپی یونین کے مابین پناہ گزینوں سے متعلق معاہدے میں "مہلک خامیاں" موجود ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے یورپ اور وسطی ایشیا کے لیے ڈائریکٹر جان ڈلہوزن کہتے ہیں کہ "یورپی یونین کے رہنماؤں نے اپنی سرحدیں بند کرتے ہوئے دانستہ طور پر ان سادہ حقائق کو نظر انداز کر دیا کہ ترکی شامی پناہ گزینوں کے لیے ایک محفوظ ملک نہیں ہے اور یہ ہر روز کم محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔"

ایمنسٹی کے مطابق جبراً شام واپس بھیجے جانے والوں میں بچے اور آٹھ ماہ کی حاملہ خاتون بھی شامل ہے۔

ترکی نے ایمنسٹی کے ان الزامات پر تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ یہ ملک تقریباً تیس لاکھ شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے جو کہ خطے کے کسی بھی ملک سے کہیں زیادہ تعداد ہے اور اس نے پناہ گزینوں کے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا عزم بھی کیا ہے۔

گزشتہ ماہ ترکی اور یورپی یونین کے مابین ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے وہ تمام تارکین وطن جو غیر قانونی طریقے سے یونان میں داخل ہوئے ان کے اندراج اور ان کے پناہ کے دعوؤں کا جائزہ لینے کے بعد انہیں واپس ترکی بھیج دیا جائے گا۔

اس کے بدلے یورپی یونین ان ہزاروں تارکین وطن کی آباد کاری کرے گی جو ترکی سے آئے تھے اور انہوں نے قانونی طریقے سے یورپی یونین کے 28 ممالک میں پناہ کی درخواست کی۔

اس معاہدے کا مقصد لاکھوں کی تعداد میں یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن سے یورپی یونین کو درپیش مشکلات پر قابو پانا تھا۔

تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ "غیر قانونی" ہے اور اس میں جنگ، غربت اور دہشت گردی سے فرار ہونے والے لوگوں کو "سیاسی چارے" کے طور پر استعمال کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے بھی جمعہ کو کہا تھا کہ تمام فریقین تمام حفاظتی اقدام کو یقینی بنائیں۔ ادارے کے بقول یونان اور ترکی میں صورتحال دگرگوں ہے۔

XS
SM
MD
LG