رسائی کے لنکس

فرانس پر الجزائر میں نسل کشی کا الزام


فرانس پر الجزائر میں نسل کشی کا الزام

فرانس پر الجزائر میں نسل کشی کا الزام

ترکی نے فرانس پر 60 سال سے زیادہ عرصہ پہلے الجرائر میں نسل کشی کے ارتکاب کا الزام لگایا ہے۔

ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوان کی جانب جمعے کے روز منظر عام پر آنے والے اس الزام سے ایک رو ز قبل فرانس کے قانون سازوں نے ایک بل کی منظوری دی تھی جس میں تقریباً ایک صدی قبل ترک خلافت عثمانیہ کے دور میں بڑے پیمانے پر آرمینیائی عوام کے قتل عام سے انکار کو قابل سزا جرم قرار دیا گیاتھا۔

آرمینیا کا کہناہے کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران خلافت عثمانیہ کے فوجیوں نے 15 لاکھ آرمینیائی باشندوں کو قتل کیا تھا۔تاریخ دان اسے 20 ویں صدی کی بدترین نسل کشی قرار دیتے ہیں۔

ترکی اگرچہ آرمینیائی باشندوں کی ہلاکتوں کو تسلیم کرتا ہے لیکن اس کا کہناہے کہ ہلاک کیے جانے والے افراد کی تعداد مبالغہ آمیز ہے اور وہاں اتنی تعداد میں لوگ نہیں مارے گئے تھے کہ اسے نسل کشی کانام دیا جاسکے۔

ترکی کا کہناہے کہ وہاں ہلاکتوں کی ایک بڑی وجہ خانہ جنگی تھی۔

وزیر اعظم اردوان نے فرانس کی پارلیمنٹ میں بل کی منظوری پر اپنے ردعمل میں کہا کہ 1945ء کے شروع میں فرانس نے الجزائر کی 15 فی صد آبادی کو موت کے گھاٹ اتار دیاتھا۔

جمعرات کو فرانس کے ایوان زیریں میں منظور کیے جانے والے بل میں کہا گیا ہے کہ 1915ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران ترکوں کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کی نسل کشی سے انکار کرنے والے کو ایک سال جیل اور 60 ہزار ڈالر تک کی سزا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اب اس بل کو غور کے لیے سینیٹ میں بھیجا جائے گا۔

مسٹر اردوان نے جمعے کے روز کہا کہ اس بل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فرانس اور یورپ میں نسل پرستی، تعصب اور مسلم دشمنی کے جذبات انتہائی عروج پر ہیں۔

ترکی نے فرانس سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے اور فرانسیسی بحریہ پر اپنی سمندری حدود استعمال کرنے پابندی لگادی ہے۔

علاوہ ازیں ترکی نے فرانس کے فوجی طیاروں کو بھی اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG