رسائی کے لنکس

'غزہ جانے والے امدادی قافلوں کی حفاظت ترک بحریہ کرے گی'


وزیر اعظم رجب طیب اردوان

وزیر اعظم رجب طیب اردوان

ترکی کے وزیرِ اعظم رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ امدادی سامان لے کر فلسطینی علاقے غزہ جانے والے کسی بھی ترک جہاز کو ترک بحریہ کے جنگی جہازوں کے پہرے میں روانہ کیا جائے گا تاکہ انہیں اسرائیلی مداخلت سے محفوظ رکھا جاسکے۔

جمعرات کو عرب ٹیلی ویژن 'الجزیرہ' سے گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان کا ملک اسرائیلی محاصرے کا شکار فلسطینی علاقے تک امداد پہنچانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کوششوں کے ردِ عمل میں اسرائیل کو گزشتہ برس کے حملے جیسی کوئی کارروائی دہرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس مئی میں امداد لے کر غزہ جانے والے ایک بحری بیڑے میں شامل ترک جہاز 'ماوی مرمارا' پر اسرائیلی کمانڈوز نے دھاوا بول دیا تھا جس کے نتیجے میں آٹھ ترک رضاکاروں اور ایک ترک نژاد امریکی شہری سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

وزیرِ اعظم اردوان نے کہا کہ ترکی نے بحرِ احمر میں فوجی گشت بڑھانے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان کا ملک اسرائیل کو علاقہ میں موجود قدرتی وسائل سے "تنِ تنہا فائدہ ' اٹھانے سے روکے گا۔

اسرائیل کے وزیرِ انٹیلی جنس ڈین میری ڈور نے ترک وزیرِ اعظم کے بیان کو "سنجیدہ اور گھمبیر تجاوز " قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ اسرائیلی افواج کے ریڈیو سے گفتگو میں اسرائیلی وزیر نے وزیرِ اعظم اردوان کے بیان پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ صورتِ حال جلد گزر جائے گی۔

ترکی نے گزشتہ ہفتے اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کی سطح میں کمی کرتے ہوئے انقرہ میں تعینات اسرائیلی سفیر اور دیگر سینئر سفارتی اہلکاروں کو ملک سے بے دخل کردیا تھا۔ ترکی نے اپنے سابق اتحادی ملک کے ساتھ ہر قسم کا دفاعی تعاون اور تجارت بھی معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

دریں اثناء ترکی کی حکمران جماعت کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ "ماضی جیسے" تعلقات مخصوص شرائط کے پورا کیے جانے کی صورت میں بحال ہوسکتے ہیں۔

عہدیدار کے مطابق ان شرائط میں سرِ فہرست ترکی کا یہ مطالبہ ہے کہ اسرائیل 'ماوی مرمارا' پر گزشتہ برس کیے گئے حملے کی باضابطہ معافی مانگے اور حملے میں ہلاک ہونے والے ترک شہریوں کے لواحقین کو ہرجانہ ادا کرے۔

اس سے قبل جمعرات کو اسرائیلی وزیرِ دفاع ایہود براک نے کہا تھا کہ ترکی، اسرائیل کا دشمن نہیں ہے اور انہیں یقین ہے کہ یہ صورتِ حال جلد گزر جائے گی۔ تاہم انہوں نے ایک بار پھر اس اسرائیلی موقف کا اعادہ کیا تھا کہ اسرائیل گزشتہ برس کے حملے پر ترکی سے معافی نہیں مانگے گا۔

ترکی کے لیے امریکی سفیر فرانسس رکیرڈون نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی خواہش ہے کہ اسرائیل اور ترکی سفارتی رابطے بحال رکھیں اور جلد از جلد اپنے تعلقات کو معمول پر لے آئیں۔

ادھر ترکی میں حزبِ مخالف کی مرکزی جماعت نے معاملہ پر اختیار کیے گئے ترک حکومت کے موقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اردوان حکومت کو اسرائیل کےساتھ تعلقات اس حد تک خراب نہیں کرنے چاہیے تھے۔

XS
SM
MD
LG