رسائی کے لنکس

'پی کے کے' کے ایک ترجمان بختیار دووان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "ترک لڑاکا طیاروں نے سرحد کے قریب بمباری کی جس کے ساتھ ساتھ زمینی فوج نے بھی گولہ باری کی۔"

ترکی نے ہفتہ کو شام اور عراق میں داعش اور کرد جنگجوؤں پر فضائی حملے جاری رکھے۔

جمعہ کو اس نے پہلی بار شام میں شدت پسند تنظیم داعش کے اہداف پر حملے شروع کیے تھے جب کہ اب شمالی عراق میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے خلاف بھی فضائی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کے دفتر سے جاری بیان میں ان کارروائیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

2013ء میں امن معاہدے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ترکی نے عراق میں کردوں کو فضائی کارروائیوں میں نشانہ بنایا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق لڑاکا طیاروں نے 'پی کے کے' کی پناہ گاہوں، گوداموں اور دیگر اہداف پر حملے کیے۔

'پی کے کے' کے ایک ترجمان بختیار دووان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "ترک لڑاکا طیاروں نے سرحد کے قریب بمباری کی جس کے ساتھ ساتھ زمینی فوج نے بھی گولہ باری کی۔"

جمعہ کو ہی ترکی نے داعش کے اہداف کو نشانہ بنانے کے علاوہ امریکی لڑاکا طیاروں کو شام میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے اپنا فوجی اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔

انقرہ میں وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی زیر قیادت اتحادی فورسز شام میںں داعش کے شدت پسندوں کے خلاف جنوبی ترکی میں موجود تمام ہوائی اڈوں کو استعمال کر سکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG