رسائی کے لنکس

بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ممنوعہ تنظیم، انقلابی پیپلز لبریشن پارٹی –فرنٹ کے دو ارکان نے وکیل استغاثہ کو منگل کی صبح سویرے استنبول کی عدالت میں واقع دفتر سے اغوا کیا تھا

ترکی میں منگل کے روز کچھ اہل کار اغوا ہوئے، اور دِن بھر یرغمالیوں سے متعلق یہ ڈرامہ جاری رہا۔ اس کا اختتام، وکیل استغاثہ، اور دو اغواکاروں کی ہلاکت پر ہوا۔

گولی لگنے سے زخمی ہونے والے ترکی کے پروزیکیوٹر، محمد سلیم کراز کی سرجری ہوئی، جس دوران وہ دم توڑ گئے۔

بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ممنوعہ تنظیم، انقلابی پیپلز لبریشن پارٹی –فرنٹ کے دو ارکان نے کراز کو منگل کی صبح سویرے استنبول کی عدالت میں واقع دفتر سے اغوا کیا تھا۔

وہ 15 برس کے ایک نوجوان کی ہلاکت کا ذمہ دار پولیس اور دیگر افراد کو قرار دتیے تھے؛ اور اُن کا مطالبہ تھا کہ اس ہلاکت کی ذمہ داری تسلیم کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔
استغاثہ کےدفتر میں گولیاں چلنے کی آواز سننے پر پولیس وہاں پہنچی۔

اہل کار پچھلے تقریباً چھ گھنٹوں سے کراز کو آزاد کرانے کے لیے مذاکرات کرتے رہے۔

ترکی، یورپی یونین اور امریکہ بائیں بازو کے اِس گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG