رسائی کے لنکس

ایران سے مذاکرات میں ترکی کا کردار

  • ڈورین جونز

ترکی کے بدلتے ہوئے کردار کی ایک وجہ شام ہے جو علاقے میں ایران کا اہم اتحادی ہے۔ ترکی کے وزیرِاعظم رجب طیب اردگان اور شام کے صدر بشا ر الاسد کے درمیان تعلقات میں کبھی بڑی گرم جوشی تھی۔ لیکن گذشتہ سال کے دوران شام نے حزبِ اختلاف پر جو تشدد کیا ہے، اس کی وجہ سے تعلقات بتدریج خراب ہو گئے ہیں۔

ایران کے متنازعہ نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں گذشتہ ہفتے کے روز استنبول میں ہونے والے مذاکرات کو شرکاء نے مفید قرار دیا ہے۔ لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ترکی کی خارجہ پالیسی خاص طور سے شام میں حکومت میں تبدیلی کے لیے اس کے مطالبے کے بارے میں ایران کی نا پسندیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس وجہ سے ان مذاکرات میں ترکی کا رول کمزور ہو گیا ہے۔

ماضی میں ترکی نے ایران کے نیوکلیئر توانائی کے پروگرام کو پرامن قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کیا ہے بلکہ دو سال قبل اس نے ایران پر اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ لیکن جب ترکی نے بہت سے معاملات میں اپنے مغربی اتحادیوں کا ساتھ دینا شروع کر دیا تو ایران کے ساتھ اس کے تعلقات میں تبدیلی آ گئی۔

ترکی کے بارے میں یورپی پارلیمینٹ کی کمیٹی کے رکن رچرڈ ہوویٹ کہتے ہیں کہ ’’ایران کے بارے میں ترکی ہماری صفوں میں واپس آ گیا ہے۔ ایران پر پابندیوں کی مخالفت کی وجہ سے ترکی پر ہمارا اعتماد کچھ کم ہو گیا تھا کیوں کہ ہم نے اقوامِ متحدہ میں اور یورپی یونین میں ان پابندیوں کے لیے سخت محنت کی تھی‘‘۔

ترکی کے بدلتے ہوئے کردار کی ایک وجہ شام ہے جو علاقے میں ایران کا اہم اتحادی ہے۔ ترکی کے وزیرِاعظم رجب طیب اردگان اور شام کے صدر بشار الاسد کے درمیان تعلقات میں کبھی بڑی گرم جوشی تھی۔ لیکن گذشتہ سال کے دوران شام نے حزبِ اختلاف پر جو تشدد کیا ہے، اس کی وجہ سے تعلقات بتدریج خراب ہو گئے ہیں۔ ترکی کی حکومت نے شام میں حزبِ اختلاف کی جو کھل کر حمایت کی ہے اس سے ایران ناراض ہو گیا ہے۔

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

اس ناراضگی کا اظہار گذشتہ ہفتے اس وقت ہوا جب ایران نے کوشش کی کہ مذاکرات استنبول سے دور کسی اور مقام پر ہوں۔ مسٹر اردگان نے اس پر ایک سخت بیان داغا جس میں انھوں نے کہا کہ دیانتداری کے فقدان کی وجہ سے ایران مسلسل اپنی بین الاقوامی ساکھ کھو رہا ہے۔

بالآخر مذاکرات ترکی کے شہر استنبول میں ہی ہوئے، لیکن ایران اور دوسرے فریقوں نے اگلے مہینے بغداد میں مذاکرات کا ایک اور راؤنڈ منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔

ترکی کی قادرحاذ یونیورسٹی کے ثولی اوزل کہتے ہیں کہ تعلقات میں سرد مہری کے باوجود تہران اب بھی انقرہ کو اپنے لیے مفید سمجھتا ہے۔

’’ایران کو اب بھی ترکی کی وساطت کی ضرورت ہے کیوں صرف یہی ایک ایسا ملک ہے جو سیاسی حل کے لیے صحیح معنوں میں کوشش کرتا ہے۔‘‘

اس کے علاوہ ترکی اپنی ضرورت کی 80 فیصد سے زیادہ گیس اور اپنا نصف سے زیادہ تیل ایران اور روس سے حاصل کرتا ہے۔ اوزل کہتے ہیں کہ ان حقائق کی روشنی میں ایران کو اطمینان رکھنا چاہیئے کہ ترکی جلدی میں کوئی غیر ذمہ دارانہ فیصلے نہیں کرے گا۔

بعض ناقدین کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ایران کے نیوکلیئر مسئلے کے بارے میں ترکی کا ثالث کا جو کردار تھا وہ پہلے ہی ختم ہو چکا ہو۔ لیکن ترکی کے اخبار ملیت کے سفارتی نامہ نگار سمیع آئیڈز کہتے ہیں کہ مستقبل میں ترکی کا اہم کردار اب بھی باقی ہے۔

’’ایران کے ساتھ مذاکرات بظاہر ٹھیک رفتار سے چل رہے ہیں۔ لیکن اگر آپ بین السطور پڑھیں، تو پتہ چلے گا کہ ہر فریق اپنے موقف پر اڑا ہوا ہے۔ لہٰذا ایک ایسے ملک کی ضرورت ہے جو دونوں ملکوں کی نظر میں واضح اور کھلا موقف رکھتا ہو۔ اس لیے ترکی اب بھی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔‘‘

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ ایران کی اگلی میٹنگ بغداد میں مئی میں ہو گی۔

توقع ہے کہ ان مذاکرات میں ان مشکل اور پیچیدہ مسائل پر توجہ مرکوز کی جائے گی کہ تہران کو آمادہ کیا جائے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جن سے بین الاقوامی برادری کو اطمینان ہو جائے کہ ایران اپنے نیوکلیئر توانائی کے پروگرام کو ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال نہیں کر رہا ہے۔ ایران نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات کے بدلے میں، بین الاقوامی پابندیاں نرم کرنی ہوں گی۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ متضاد مطالبات کی روشنی میں کسی تصفیے پر پہنچنا آسان نہیں ہوگا۔

XS
SM
MD
LG