رسائی کے لنکس

ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے ترکی پر اثرات

  • ڈورین جونز

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی

امریکہ خاموشی سے ایران پر اقتصادی اورمالیاتی دباؤمیں اضافہ کرتا رہا ہے۔ اس دوران ایسے آثار بھی نظر آ رہے ہیں کہ تہران کے متنازعہ نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں مذاکرات اگلے مہینے پھر شروع ہو سکتے ہیں۔ لیکن یورپی یونین اوراقوامِ متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں سے ترکی کے لیے جو ایران پر پابندیوں کا مخالف ہے سفارتی سطح پر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس ہفتے جب جرمنی کے صدر Christian Wulff نے ترک پارلیمنٹ سے خطاب کیا توانھوں نے ترکی سے اپیل کی کہ وہ اپنے ہمسایہ ملک ایران کے خلاف پابندیوں کی حمایت کرے۔اُنھوں نے ترکی سے کہا کہ وہ ایران کے خلاف زیادہ سخت پابندیوں کی حمایت کرے۔’’ ا ب یہ ایران پر منحصر ہے کہ وہ کوئی اقدام کرے اور بین الاقوامی برادری کی تشویش کو دور کرے۔ ترکی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تازہ ترین راؤنڈ کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ اس کے بعد اس نے کہا ہے کہ وہ ان پابندیوں پر عمل در آمد کرے گا، لیکن ان زیادہ سخت پابندیوں پر نہیں جو یورپی یونین اور امریکہ نے عائد کی ہیں‘‘۔

ترک وزارتِ خارجہ کے ترجمان Selim Yenel نے کہا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ ہم صرف اقوامِ متحدہ کی پابندیوں پر عمل در آمد کے پابند ہیں کیوں کہ ہمارے خیال میں پابندیاں موئثر نہیں ہوتیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایران مذاکرات کی میز پر موجود رہے۔ امریکہ اور یورپی یونین کی ان یکطرفہ پابندیوں کے بارے میں ہم سے کسی نے کوئی مشورہ نہیں کیا تھا۔ ہم ان پر عمل کرنے کے پابند نہیں ہیں‘‘۔

واقعہ یہ ہے کہ جب سے امریکہ اور یورپی یونین نے تجارت پر مبنی یہ پابندیاں شروع کی ہیں ترکی کی حکومت نے ایران کے ساتھ تجارت میں ترقی کو اپنی ترجیح بنا لیا ہے۔ گذشتہ مہینے استنبول میں دونوں ملکوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تجارت کو 14 ارب ڈالر سے بڑھا کر 42 ارب ڈالر تک لے جائیں گے۔

لیکن بین الاقوامی تعلقات کے ماہر استنبول کی Kadir Has یونیورسٹی کے Soli Ozel کہتے ہیں کہ یہ محض نمائشی بات ہے۔ ترک کمپنیاں جانتی ہیں کہ اگر انھوں نے پابندیوں پر عمل نہ کیا تو ان کے خلاف تعزیری اقدامات کیئے جائیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’کوئی بھی کمپنی جس کا امریکہ کے ساتھ کاروبار ہے ایسا کرنے پر تیار نہیں ہوگی۔ ایسا نہیں ہے کہ ترک حکومت کمپنیوں کو حکم دے رہی ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار ضرور کیا جائے ۔ وہ صرف یہ کہہ رہی ہے کہ ہمیں اپنے فیصلے خود کرنے کی اجازت ہونی چاہیئے، اور ایسی کمپنیاں جن کا امریکہ میں کوئی کاروبار نہیں ہے، وہ ممکن ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنا چاہیں، لیکن یہ سرگرمی بھی محدود رہے گی‘‘۔

مغربی انٹیلی جنس کے ایک ذریعے کے مطابق یہ تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ ترکی کے ترقی یافتہ مالیاتی شعبے اور خاص طور سے اس کے سرکاری بنکوں کو ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے لیے سامان خریدنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایران کے دوسرے سب سے بڑے بنک ملت کو یورپی یونین اور امریکہ دونوں نے بلیک لسٹ کردیا ہے لیکن ترکی کے تین شہروں میں اس کے دفاتر موجود ہیں۔ ایسے کوئی آثار نہیں ہیں کہ ترک حکام کی طرف سے اس بنک پر کسی قسم کی پابندیاں لگائی گئی ہوں۔

اگست میں امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے ترکی کا دورہ کیا اور کمپنیوں کو انتباہ کیا کہ وہ امریکہ کی طرف سے عائد کی ہوئی پابندیوں کو نہ توڑیں۔ اس مہینے ترکی کے وزیرِ خارجہ Ahmed Davutoghlu نے ایران کے بارے میں اپنے ملک کی پالیسی کا اعادہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایران ہمارا اہم ہمسایہ ہے اور تجارت اور توانائی کے شعبوں میں اس کے ساتھ ہمارے گہرے تعلقات ہیں۔ قانونی طور پر ہم ان کے یکطرفہ فیصلوں کے پابند نہیں ہیں۔

اس ہفتےامریکی محکمۂ خزانہ کے انڈر سکریٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس، Stuart Levey نے ترک حکومت کے عہدے داروں اور مالیاتی کمپنیوں کے ساتھ نئے مذاکرات کیئے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان Yenel نے کہا ہے کہ وہ خطرات سے با خبر ہیں لیکن انھوں نے کہا کہ امریکہ کو ترکی پر کوئی اختیار نہیں ہے۔

ترکی کے تجارتی ادارے گلوبل سکیورٹیز کے Emre Yigit کہتے ہیں کہ یورپی یونین اور امریکہ کا روزافزوں سخت رویہ حقیقت پسندی کے خلاف ہے۔’’ ایران ترکی کا ہمسایہ ہے اورآئندہ بھی رہے گا۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے فرانس سے کہا جائے کہ بعض وجوہ کی بنا پرآپ کو کوئی چیز جرمنی یا برطانیہ سے در آمد نہیں کرنی چاہیئے ۔ یہ ایسی چیز نہیں ہے جس پر عمل ہو سکے‘‘۔

یورپی یونین کے ارکان کے بر عکس ترکی کی معیشت میں ریکارڈ ترقی ہو رہی ہے۔ اس کامیابی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ترکی نے یورپ میں اپنے روایتی تجارتی شراکت داروں سے ہٹ کر مشرقِ وسطیٰ میں اپنے ہمسایوں کے ساتھ تجارت پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔ اب جب کہ ایران بڑی حد تک الگ تھلگ ہو کر رہ گیا ہے، تجارت کے مواقع میں کافی اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ ترکی کا تصادم ہو کر رہے گا۔

XS
SM
MD
LG