رسائی کے لنکس

ترکی کے بڑھتے ہوئے کردار سے ایران خائف کیوں

  • مینا ربائی

ترکی کے صدر عبدالہ گل (بائیں) اور ایرانی صدر احمدی نژاد (فائل فوٹو)

ترکی کے صدر عبدالہ گل (بائیں) اور ایرانی صدر احمدی نژاد (فائل فوٹو)

اس سال مئی میں جب ترکی نے ایران کے خلاف مزید عالمی پابندیوں کی مخالفت کی تھی تو عالمی امور کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال تھا کہ ایران اور ترکی کے تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں ۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی پر ترکی کا بڑھتا ہوا سیاسی اور معاشی اثرو رسوخ مستقبل میں ایران کے کردار میں کمی کا باعث بن سکتا ہے ۔

ترکی اور ایران کے درمیان پانچ سو کلومیٹر کی زمینی سرحد مشترکہ ہے ۔ دونوں ملکوں کی باہمی سالانہ تجارت کا حجم ساڑھے سات ارب ہے اور ہر سال دس لاکھ ایرانی ترکی کا سفر کرتے ہیں ۔ گزشتہ سال اپریل میں جب ترک صدر عبد اللہ گل نے اپنے پاکستانی اور افغان ہم منصبوں کے ساتھ افغانستان کے بارے میں ایک کانفرنس کی میزبانی کی تھی ، تو ایران خطے کے ان ملکوں میں سے ایک تھا جس نے اس کانفرنس میں شرکت کے لئے اپنا کوئی اعلی سطحی مندوب نہیں بھیجا تھا ۔ ترکی اور ایران کے تعلقات پر نظر رکھنے والے سکالر ایلیئٹ ہین ٹوو کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر سے خوش نہیں ہے اور ایسا ہوگا بھی نہیں ۔

ایلیئٹ ہین ٹوو کہتے ہیں کہ ایرانی راہنما اس الجھن کا شکار ہیں کہ ایک ملک جو 30 سال پہلے ایران کے اسلامی انقلاب کے وقت ان سے آدھا دولت مند تھا ، اب ایران سے دوگنا امیر ہو چکا ہے ۔

ٹوو کہتے ہیں کہ ایک ایسا پڑوسی ملک جو کل تک ایک ترقی پذیر آمریت تھا ، اب اسے ایک لیڈر کے کردار میں ابھر تے ہوئے دیکھنا ایرانی قیادت کے لئے آسان نہیں ہے ۔ اس کا اثر سیاسی تعلقات پر بھی پڑے گا ۔ ایران کے لئے ترکی کو اپنا لیڈر ماننا آسان نہیں ہوگا ۔

آج ترکی مشرق وسطی کی ایک بڑی سیاسی طاقت اور دنیا کی 16ویں بڑی معیشت ہے ۔ ایران اپنے معاشی مفادات اور تعلقات کے لئے ترکی کی طرف دیکھ رہا ہے اور ترکی نے اسرائیل اور شام کے تنازع ، لبنان میں سیاسی مفاہمتی کوششوں اور اب شام اور سعودی عرب کے راہنماوں کو قریب لانے میں بھی کردار ادا کیا ہے ۔ اپنی موجودہ خارجہ پالیسی کے تحت ترکی اب مسلمان دنیا کے مفادات کے تحفظ کا کردار بھی اختیار کر رہا ہے جسے ایران اپنے لئے مخصوص سمجھتا رہا ہے ۔ چند ہفتے قبل ترکی نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی مخالفت کے باوجود فلسطینی علاقوں میں صنعتی زون قائم کرے گا ۔ جبکہ گزشتہ مہینے فلسطینیوں کے لئے امدادی سامان لے جانے والے قافلے کی قیادت سے ترکی نے فلسطین کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عرب ملکوں کے اکثر افراد اب خطے کے جاری مسائل کا حل ایران سٹائل کے اسلام کے زیادہ ماڈرن روپ میں دیکھتے ہیں ۔ جس کا مطلب ہے کہ مشرق وسطی ملکوں میں سیاسی حمایت کے لئے ایران کی طرف دیکھنے والوں کی تعداد کم ہو رہی ہے ۔ گزشتہ مہینے ترکی کے امدادی قافلے پر حملے کے بعدفلسطینی تنظیم حماس نے ایران کی جانب سے ایسے ہی ایک اور امدادی جہاز کی ایرانی حفاظت میں منتقلی کی پیشکش یہ کہتے ہوئے رد کر دی تھی کہ اس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی ۔ تجزیہ کار ٹوو کہتے ہیں کہ ایران کی حامی تنظیموں حزب اللہ اور حماس نے بہت جلدی یہ اندازہ لگا لیا ہے کہ ایرانی اثر رو رسوخ کے مقابلے میں ترکی کا اثر زیادہ مؤثر ہوگا ۔

مگر ایران کے ترکی کے بارے میں جو بھی خیالات ہوں ، ترکی ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف کسی فوجی کارروائی کی مخالفت کے موقف پر قائم ہے ۔ اورماہرین اسی بات کو دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ مفادات کا مضبوط تعلق قرار دے رہے ہیں ۔ گزشتہ مہینے واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ترک عہدیداروں نے اپنی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی نئی پابندیوں کے نفاذ کی مخالفت کے اپنے موقف کا دفاع کیا تھا۔

نامک ٹین امریکہ میں ترکی کے سفیر ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسی پابندیوں یا طاقت کے استعمال سے ترکی سب سے زیادہ متاثر ہوگا ۔ اگر ہمیں یہ وزن اٹھانے کو کہا گیا تو ہمیں یہ موقعہ بھی ملنا چاہئے کہ ہم ایران سے مذاکرات کی کوشش کریں ۔ ہماری جغرافیائی سرحدیں آپ کے ملک کی طرح ایران سے ہزاروں میل دور نہیں ، اس کے بالکل ساتھ واقع ہیں۔

ایرانی راہنماوں کے رویے میں ترکی کے لئے پائے جانے والے حسد کے باوجود ماہرین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایران ترکی کو مجموعی طور پر ایک مثبت طاقت کے طور پر دیکھتا ہے اور وہ روس کے بعد ترکی کو قدرتی گیس فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے جبکہ نیٹو ملکوں اور کسی حد تک اسرائیل سے بچاؤ کے راستے میں ترکی ایران کے لئے حفاظتی بفر کا کردار ادا کر رہاہے ۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مسلم دنیا پر ترکی کا اثر بڑھ گیا تو ترکی کا کردار ایران کے کردار کو پس منظر میں دھکیل دے گا ۔

XS
SM
MD
LG