رسائی کے لنکس

ایران سے روابط کے بعد ترکی کے مغرب سے تعلقات

  • ڈورین جونز

ترکی ایک طویل عرصے سے امریکہ کا حلیف رہا ہے، نیٹو کا رکن ہے، اور یورپی یونین کی رکنیت کا امیدوار ہے۔ لیکن آج کل مغربی ملکوں کے ساتھ اس کے تعلقات کو ایران کے ساتھ روابط کی روشنی میں جانچا جا رہا ہے۔

ترکی کے ایک اعلیٰ سفارتکار نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو اس بات پر مایوسی ہوئی ہے کہ اس کے مغربی اتحادیوں نے اسے اس بات کا موقع نہیں دیا کہ وہ برازیل کے ساتھ مِل کر ایران کے نیوکلیئر توانائی کے پروگرام سے پیدا ہونے والے بحران کو سفارتی کوششوں کے ذریعے طے کر لے۔

ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی نئی پابندیوں کی منظوری سے چند روز قبل، ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے برازیل کے صدر اور ترک وزیرِ اعظم کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دستخط کیے جس کے تحت ایران اپنا کچھ یورینیم افژودگی کے لیے باہر بھیجتا۔ اس یورینیم کو ہتھیار بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان نے اس انتظام کو مسترد کر دیا اور تہران پر الزام لگایا کہ وہ پابندیوں سے بچنے کے لیے ایک اور تاخیری حربہ استعمال کر رہا ہے ۔

سینئر ترک سفارتکار سلیم ینیل نے کہا ہے کہ ترکی کا تعاون اقوام متحدہ کی عائد کردہ پابندیوں تک محدود رہے گا۔ ترکی امریکہ اور یورپی یونین کے اقدامات کی حمایت نہیں کرے گا ’’میں سمجھتا ہوں کہ ترکی کو اصولی موقف اختیار کرنا چاہیئے۔ ہم نے اقوام متحدہ میں پابندیوں کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ پابندیاں موئثر نہیں ہوں گی اوران سے سفارتی کوششوں میں رکاوٹ پڑے گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ کسی نے امریکہ اور یورپی یونین کی یکطرفہ پابندیوں پر ترکی کے ساتھ کوئی بات نہیں کی ہے۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم پر ان پر عمل کرنے کے پابند نہیں ہیں‘‘۔

ترکی نیٹو کا رکن ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکہ کا مضبوط حلیف رہا ہے۔ یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کا عمل بھی جاری ہے۔ لیکن ایران کے خلاف امریکہ اوریورپی یونین کی پابندیوں کے سلسلے میں ترکی نے جو سخت موقف اختیار کیا ہے اس کی وجہ سے یہ سوالات پیدا ہو رہے ہیں کہ کیا ترک حکومت خود کو اپنے مغربی حلیفوں سے دور لے جا رہی ہے۔ اس تشویش میں اس لیے بھی اضافہ ہوا ہے کیوں کہ ترکی کی حکمران ’’اے کے‘‘ پارٹی اسلام سے وابستہ سمجھی جاتی ہے اور وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ایران کے صدر کو اپنا دوست کہا ہے۔

خارجہ تعلقات کے ماہر اور سیاسی کالم نویس سمہی آئیڈز کہتے ہیں کہ واشنگٹن میں اس بارے میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ کچھ لوگ مغرب کے ساتھ ترکی کی وابستگی پر شبے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس وقت ترکی کے بارے میں واشنگٹن کا موڈ مثبت نہیں ہے۔

وزیراعظم اردگان نے اس قسم کے خیالات کو مسترد کر دیا ہے اور انہیں میڈیا کی شر انگیزی قرار دیا ہے۔ لیکن حال ہی میں امریکی محکمہ ٔ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری فار یورپین اینڈ یورایشین افیئرز فلپ گورڈن نے کہا کہ مغرب کے ساتھ ترکی کی وابستگی کے بارے میں جو روز افزوں سوالات پیدا ہور ہے ہیں، ان سے انقرہ اور واشنگٹن کے لیے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ترکی کو مغرب کے ساتھ اپنی وابستگی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔

ان کے اس بیان کو ترک سفاتکار یینل نے مسترد کردیا ’’یہ بیان افسوسناک ہے کیوں کہ ترکی نے اپنا انداز فکر بالکل تبدیل نہیں کیا ہے۔ ترکی کو کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ صرف دیکھنا کافی ہے کہ ترکی نے گذشتہ چند برسوں میں کیا کیا ہے۔ ترکی زیادہ سرگرم، زیادہ پُر اعتماد، اور زیادہ اختراع پسند ہو گیا ہے۔ ہمارے انداز فکر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہم مغرب کی طرف ہی دیکھتے ہیں اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی‘‘۔

ان یقین دہانیوں کے باوجود یورپی یونین اور امریکہ یہی کہیں گے کہ اصل اہمیت الفاظ کی نہیں بلکہ اس بات کی ہے کہ ترکی کی حکومت کی پالیسی کیا ہے۔ ترک سفارتکار ینیل تسلیم کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکہ کی پابندیوں سے ان ترک کمپنیوں کے لیے مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے جو ایران کے ساتھ تجارت کرتی ہیں، اگر ان کے امریکہ کے ساتھ بھی تجارتی روابط ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں امید ہے کہ یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ ہم یقیناً بغور یہ دیکھیں گے کہ جو کمپنیاں ایران کے ساتھ تجارت کرتی ہیں، ان پر کس قسم کے اثرات پڑیں گے۔ لیکن ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں صرف اقوام متحدہ کی پابندیوں کی تعمیل کرنی لازمی ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ ترکی نے ملک میں اصلاحات اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے جو کوششیں کی تھیں، ان سے اس کے لیے سفارتی سطح پر بہت خیر سگالی پیدا ہوئی تھی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ خیر سگالی زیادہ دن باقی نہیں رہے گی۔

XS
SM
MD
LG