رسائی کے لنکس

ترکی: اسرائیل نے معافی نہ مانگی توتعلقات منقطع

  • ب

ترکی نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ کے محصورین کے لیے امداد لے جانے والے بحری قافلے پر مئی میں ہوئے حملے کی معافی نہیں مانگی تو وہ اس سے تمام سفارتی تعلقات منقطع کر دے گا۔

یہ انتباہ ترکی کے وزیر خارجہ احمد داووت اگلو نے حریت نامی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیاہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ یا تو اسرائیل اس سلسلے میں معافی مانگے یا پھراس حملے کے حوالے سے کی گئی بین الاقوامی تحقیقات کے نتائج کو قبول کر ے۔

ترکی نے حالیہ چند ہفتوں کے دوران بارہا اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 31 مئی کی پرتشدد کارروائی پر معذرت کے ساتھ ساتھ متاثرین کو معاوضہ ادا کرے، اقوام متحدہ کی زیر نگرانی اس حادثے کی تحقیقات پر اتفاق کرے اور غزہ میں موجود 16 لاکھ افراد کا محاصرہ ختم کرے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے گئے حملے میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس واقعے کے بعد ترکی نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلالیا تھا۔
ماضی میں ترکی اسرائیل کا قریبی مسلم دوست ملک سمجھا جاتا رہا ہے ۔

واضح رہے کہ اسرائیل حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ فوجیوں نے بحری جہاز پر سوار افراد پر گولیاں اپنے دفاع میں اس وقت چلائیں جب ان پر لاٹھیوں اور چھریوں سے حملہ کیا گیا۔

دریں اثناء اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں روز مرہ کی اشیاء کی درآمد کے لیے وضع کیے گئے قوانین میں تبدیلی کی ہے جس کے بعد تقریباً تمام گھریلو اشیاء کی غزہ میں آمد کی اجازت ہو گی۔ تاہم حکام نے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ تعمیراتی سامان پر پانبدی برقرار رہے گی البتہ اس کی بین الاقوامی منصوبوں میں استعمال کے لیے اسرائیل کی نگرانی میں داخلے کی اجازت ہو گی۔

اسرائیل نے 2007ء میں غزہ میں حماس کے برسراقتدار آنے کے بعد اس علاقے کی زمینی اور سمندری حدود کی ناکہ بندی کر دی تھی جس کے نتیجے میں اس کو بین الا قوامی سطح پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے بھی اس ناکہ بندی میں کمی پر زور دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو منگل کے روز واشنگٹن میں صدر اوباما سے ملاقات کر رہے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG