رسائی کے لنکس

اسرائیل کے وزیرِ دفاع ایہود براک نے کہا ہے کہ ترکی اور اسرائیل دشمن نہیں بنیں گے اور دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برس غزہ جانےو الے امدادی قافلے پر اسرائیلی حملے کے معاملہ پر پیدا ہونے والا تنازع جلد گزر جائے گا۔

ایک اسرائیلی ریڈیو پر نشر کیا گیا ایہود براک کا یہ بیان ترک حکام کے ان اقدامات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ترکی نے اسرائیل کے ساتھ تمام فوجی تجارت اور تعاون معطل کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں ترک بحریہ کا گشت بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔

ترکی نے گزشتہ ہفتے انقرہ میں تعینات اسرائیلی سفیر کو بھی ملک سے بے دخل کردیا تھا۔ گزشتہ برس مئی میں اسرائیلی محاصرے کا شکار فلسطینی علاقے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے ایک بحری بیڑے میں شامل جہاز پر اسرائیلی کمانڈو کے حملے میں ترک شہریوں کی ہلاکت پر ترکی نے اسرائیل سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا جس سے انکار پر ترکی نے حالیہ اقدامات اٹھائے ہیں۔

اسرائیلی کمانڈوز نے 'غزہ فلوٹیلا' نامی بحری بیڑے میں شامل ترک جہاز 'ماوی مرمارا' پر چڑھائی کردی تھی تاکہ امدادی قافلے کو غزہ جانے سے روکا جاسکے۔ جہاز میں فلسطینی باشندوں کے لیے امدادی سامان لدا ہوا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے فلسطینی علاقے کی ناکہ بندی کا مقصد غزہ کی منتظم جماعت 'حماس' کے جنگجوؤں تک ہتھیاروں کی ترسیل کو روکنا ہے۔

جہاز پر ہونے والی محاذ آرائی میں نو ترک رضا کار ہلاک جبکہ کئی اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے تھے۔

واقعہ کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے اقوامِ متحدہ کے ایک پینل کی گزشتہ ہفتے جاری کی گئی رپورٹ کے بعد مذکورہ معاملہ پر اسرائیل اور ترکی کے درمیان تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اسرائیل کی بحریہ کی جانب سے غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی قانونی ہے مگر اسرائیلی حکومت نے ان ترک بحری جہازوں کو روکنے کے لیے "بہت زیادہ اورنامناسب طاقت" کا استعمال کیا۔

رپورٹ میں امدادی بیڑے کے منتظمین پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی محاصرہ کو "بے رحمانہ طریقے سے" توڑنے کی کوشش کی۔

اسرائیل نے عالمی ادارے کی رپورٹ پر کچھ تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے تسلیم کرلیا ہے جبکہ ترکی کی جانب سے رپورٹ کے اہم مندرجات کو مسترد کردیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG