رسائی کے لنکس

ترکی: اسرائیل کے ساتھ تعلقات محدود کرنے کی دھمکی


غزہ جانے والے بحری امدادی قافلے پر مہلک اسرائیلی حملے کے بعد ترکی نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کم ترین سطح پر لانے کی دھمکی دی ہے۔

نائب وزیر اعظم بلند ارینک نے جمعے کے روز کہا کہ اسرائیل کے ساتھ دفاعی اور تجارتی تعلقات میں کمی کردی جائے گی۔ ترک میڈیا نے کہا ہے کہ انقرہ بین الاقوامی عدالت میں اسرائیل کے خلاف ایک ممکنہ فوجداری مقدمے کے لیے بھی کوشش کررہاہے۔

ایک اور خبرکے مطابق ترک عہدے داروں نے جمعے کے روز کہا کہ انہوں نے اسرائیلی حکام کی جانب سے زیر حراست رکھےگئے آخری پانچ زخمی سرگرم کارکنوں کو وطن واپس لانے کے لیے دو ایمبونسس طیارے بھیج دیے ہیں ۔

پیر کے روز بحری جہاز پر اسرائیلی کمانڈوز کے حملے کے بعد ایک 19 سالہ ترک نژاد امریکی سمیت ، نو سرگرم کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔ وہ بحری جہاز ایک ترک امدادی تنظیم کی جانب سے ترتیب دیے جانے والے امدادی قافلے میں شامل تھا۔ امدادی تنظیم غزہ کی پٹی میں تین سال سے جاری اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کررہی تھی۔

انسانی ہمدردی کا سامان وہاں لے جانے والے ایک اور بحری جہاز کو بھی اسرائیلی ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ فلسطینیوں کے حامی سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ ریچل کوری نامی بحری جہاز توقع ہے کہ غزہ کے ساحل پر جمعے کی رات کوپہنچ جائے۔

اسی اثنا میں اسرائیل یروشلم کے پرانے شہر کے حصے میں رسائی کو محدود کررہاہے۔

جمعے کے روز اسرائیلی پولیس نے کہا کہ صرف 40 سال سے بڑی عمر کے افراد کو جامع الاقصیٰ میں نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے گی۔ عہدے داروں نے یہ بھی کہا کہ پولیس اہل کار شہر بھر میں تعینات کیے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG