رسائی کے لنکس

ترکی میں درجنوں صحافیوں کے وارنٹ گرفتاری جاری


فائل فوٹو
فائل فوٹو

قبل ازیں رواں ہفتے حکومت نے 42 صحافیوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے جن میں سے 16 کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ترکی میں حکام نے امریکہ میں مقیم ترک مذہبی رہنما فتح اللہ گولن سے مبینہ طور پر وابستہ مزید درجنوں صحافیوں کی گرفتاری کے لیے احکامات جاری کیے ہیں۔

ترک حکومت کا دعویٰ ہے کہ فتح اللہ گولن مینہ طور پر رواں مہینے ترکی میں کی گئی فوجی بغاوت کی کوشش کے ذمہ دار ہیں۔

تاہم گولن ان الزامات کو سختی سے مسترد کر چکے ہیں۔

بدھ کو کم ازکم ایک صحافی کو حراست میں لیا گیا جب کہ ترکی کے سب سے بڑے اخبار 'زمان' کے ادارتی عملے کے 47 سابق کارکنوں کو گرفتار کرنے کے لیے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔

رواں سال مارچ میں ترکی کی ایک عدالت نے اس اخبار کو سرکاری تحویل میں دے دیا تھا جس کے تھوڑی دیر کے بعد ہی پولیس نے اس کے دفاتر پر چھاپہ مارا۔

بتایا جاتا ہے کہ زمان اخبار کے فتح اللہ گولن کی تحریک سے قریبی روابط تھے۔ سرکاری تحویل میں لیے جانے کے بعد سے اس اخبار نے اپنی اشاعت میں زیادہ تر حکومت کی حمایت سے متعلق موقف اختیار کیا۔

قبل ازیں رواں ہفتے حکومت نے 42 صحافیوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے جن میں سے 16 کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

صحافیوں کے خلاف ہونے والی کارروائی حکومت کی اسی مہم کا حصہ ہے جس کے تحت ترکی میں بغاوت کی کوشش کے بعدسے ہزاروں سرکاری عہدیداروں اور تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے ماہرین کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔

بغاوت کی اس ناکام کوشش کے دوران ترکی میں لگ بھگ تین سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرینشل کے اندازوں کے مطابق 15 جولائی کی بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد دس ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG