رسائی کے لنکس

ترکی میں تین عشروں سے جاری کردش بغاوت کو کس طرح ختم کیا جائے، یہ بدھ کے روز ہونے والی اس میٹنگ کا موضوع تھا جو ملک کے وزیرِ اعظم اور حزبِ اختلاف کے لیڈر کے درمیان ہوئی۔

ترکی کے وزیرِاعظم رجب طیب اردوان اور حزبِ اختلاف کی ریپبلیکن پارٹی کے لیڈر کمال کیلچداروگلو کے درمیان ہونے والی ایک گھنٹے کی میٹنگ کو دونوں فریقوں نے مفید قرار دیا۔ اس بات چیت کا موضوع حزبِ اختلاف کی ایک تجویز تھی جس کا مقصد کردستان ورکرز پارٹی کی بغاوت کو ختم کرنا ہے۔ اس پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اقلیتوں کے زیادہ حقوق کے لیے جنگ کر رہی ہے۔

اس کام کی ابتدا کرنے والوں میں فاروک لوگولو بھی شامل تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ میٹنگ مفید رہی۔ ’’حزبِ اختلاف اپنا رویہ لچکدار رکھے گی اور مذاکرات کے لیے تیار ہے۔‘‘

دس نکاتی منصوبے میں مختلف پارٹیوں پر مشتمل کمیشن اور 12 افراد پر مشتمل ایک کمیٹی کی تشکیل شامل ہے جن کا انتخاب پارلیمینٹ کی چار پارٹیاں کریں گی۔

کردوں کی حامی ’’پیس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی‘‘ پہلے ہی اس تجویز کی حمایت کا اظہار کر چکی ہے۔ حکمراں ’’اے کے‘‘ کے ڈپٹی چیئرمین عمر کیلک نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا لیکن انھوں نے کہا کہ سیاسی اتفاق رائے حاصل کرنا مشکل ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ اصولاً ان کی پارٹی اس تجویز کی مخالف نہیں ہے کہ کمیشن میں تمام پارٹیاں شرکت کریں۔ لیکن سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہو گی کہ سب کو شرکت کرنے کے لیے کیسے آمادہ کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پارٹی کی طرف سے سخت مخالفت ہو سکتی ہے، لیکن اس کی شرکت انتہائی اہم ہے۔

بدھ کے روز کی میٹنگ سے پہلے، قوم پرست نیشنل ایکشن پارٹی کے لیڈر ڈویلٹ بہچلی نے اس تجویز کی مذمت کی اور کہا کہ یہ دہشت گردی کو انعام دینے کے مترادف ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران اس تنازعے میں شدت آ گئی ہے اور کردش ’’پی کے کے‘‘ باغیوں نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ حکومت کا رویہ روز بروز زیادہ سخت ہو گیا ہے کیوں کہ کردوں کے ساتھ مصالحت کی اس کی اپنی کوشش ناکامی پر اور ایک دوسرے پر الزام تراشی پر ختم ہوئی۔

اس کے علاوہ گزشتہ سال کے عام انتخابات کے دوران وزیرِاعظم اردوان نے ترک قوم پرستوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ’’پی کے کے‘‘ کے خلاف سخت موقف اختیار کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ مسئلہ صرف دہشت گردی کا ہے۔ اپنی فتح کے بعد سے اب تک وہ اپنے اس موقف پر قائم رہے ہیں۔

لیکن ترک اخبار ملیت کے سیاسی کالم نگار اسیلی ایدنتاسباس کہتے ہیں کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کردش مسئلے پر حزبِ اختلاف نے کوئی اقدام کیا ہے۔

’’یہ پہلا موقع ہے کہ انھوں نے واقعی ترقی پسندی کا مظاہرہ کیا ہے اور کردش مسئلے پر توجہ دی ہے۔ انھوں نے حکومت کو مجبور کیا ہے کہ وہ مل جل کر بیٹھے اور اس مسئلے کو حل کرنے کے طریقوں پر غور کرنا شروع کرے ۔ یہ دونوں لیڈر ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے، لیکن بعض اوقات حالات کے آگے لوگ بے بس ہو جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس طرح ملک میں حالات تبدیل ہو جائیں۔‘‘

ایک اور چیز جو اس اقدام پر اثر انداز ہو رہی ہے وہ علاقے میں جاری کشمکش ہے۔ ترکی کی جنوب مشرقی سرحدیں شام اور عراق سے ملتی ہیں اور یہی وہ علاقہ ہے جہاں کرد آباد ہیں۔ شام اور عراق میں بھی کردوں کی بڑی آبادی رہتی ہے۔

قادر ہاس یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے ماہر سولی اوزل کہتے ہیں کہ ترکی کو اس مسئلے پر نئے انداز سے سوچنا چاہیئے کیوں کہ ملک میں کردش مسئلہ اب صرف داخلی مسئلہ نہیں رہا ہے۔

’’عراق کے کرد اب برائے نام عراقی ہیں۔ وہ آزاد ہو چکے ہیں۔ شام کے کردوں کی حیثیت تبدیل ہو جائے گی، چاہے شام میں موجودہ خلفشار کسی بھی طرح ختم ہو۔ اور کردش مسئلہ اب کئی ملکوں کا، علاقائی مسئلہ بن گیا ہے، جو سرحدوں کے پار تک پھیل گیا ہے۔‘‘

انقرہ نے دمشق پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ’’پی کے کے‘‘ کے باغیوں کو اپنے علاقے میں آزاد چھوڑ دیا ہے۔ حکمران ’’اے کے‘‘ پارٹی نے انتباہ کیا ہے کہ بغاوت کو ختم کرنے کی تازہ ترین تجویز کو، سیاسی اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے مہینوں نہیں، بلکہ صرف چند ہفتے دیے جانے چاہئیں۔

مبصرین کہتے ہیں کہ ایسا کرنا مشکل ہو گا، لیکن علاقے میں جس رفتار سے بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے، بغاوت کو ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھتا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG