رسائی کے لنکس

کرد خواتین کارکنوں کا قاتل کون؟

  • ڈوریان جونز

قتل ہونے والی کارکنوں کے جنازے کا ایک منظر

قتل ہونے والی کارکنوں کے جنازے کا ایک منظر

اب ترکی میں یہ خیال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ ممکن ہے اس کے ہمسایہ ممالک بھی اس واقعے میں ملوث ہوں۔

فرانس میں تین سرگرم کرد خواتین کارکنوں کی ہلاکت کی تفتیش جاری ہے، اور اس کے ساتھ ہی ترکی میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ ان کے قتل کا ذمہ دار کون ہے۔

کردوں کی حامی پیس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی کی لیڈر گلتان کسانک کہتی ہیں کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان ہلاکتوں میں کس کا ہاتھ ہے ۔ ’’گذشتہ ہفتے پیرس میں تین کرد خواتین سیاست دانوں کے پر اسرار قتل کی ذمہ داری ترکی کی حکومت پر ہے۔ یہ قتلِ عام روکا جا سکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا ۔‘‘

کسانک کہتی ہیں کہ اس قتل میں ’’ڈیپ اسٹیٹ‘‘ کا ہاتھ ہے۔ یہ فقرہ حکومت کے ان بد طینت عناصر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو کٹڑ قوم پرست رجحانات رکھتے ہیں۔ ’’ڈیپ اسٹیٹ‘‘ پر اکثر موجودہ حکومت اور کردوں کی حامی تحریک کے خلاف سازشیں کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

لیکن ترکی کی حکومت نے اس بات سے سختی سے انکار کیا ہے کہ اس واردات میں حکومت کا کوئی ہاتھ تھا۔ ترکی کے وزیرِ اعظم طیب اردوان نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں کہا کہ ان خواتین کی پھانسی دیے جانے کے انداز سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے امن مذاکرات کے بارے میں، اندرونی دشمنی چل رہی ہے۔ ترکی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اس نے’ پی کے کے‘ کے لیڈر عبداللہ اوجلان کے ساتھ، جو قید میں ہیں، مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔

اخباری اطلاعات کے مطابق، ترکی کی حکومت اور پی کے کے نے امن منصوبے کے بنیادی ڈھانچے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت، کرد اقلیت کے حقوق میں اضافہ کیا جائے گا، اور اس کے عوض، عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔

باغچہ شہر یونیورسٹی میں سیاسیات کے ماہر، چنگیز اختر کہتے ہیں کہ قوی امکان یہی ہے کہ اندرونی دشمنی کی وجہ سے یہ واردات ہوئی ہے۔’’مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ فرانس میں کردوں کے جو مختلف دھڑے ہیں، یہ واقعہ ان کے درمیان دشمنی کا شاخسانہ ہے۔ ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے۔ مجھے امید ہے کہ مذاکرات کرنے والوں اور سیاست دانوں نے پچھلی تجاویز سے جو ناکام ہو گئیں، کچھ سبق سیکھے ہیں ۔‘‘

مبصرین اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ قوم پرست ترک عسکریت پسندوں کی خونی دشمنیوں کی تحریک بہت قدیم ہے۔ ماضی میں ان پر کرد باغیوں کو ہلاک کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ کرد علاقائی خود مختاری چاہتے ہیں۔ لیکن اس قسم کے واقعات ترکی کی سرحدوں کے اندر ہی ہوتے رہے ہیں۔

اب ترکی میں یہ خیال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ ممکن ہے اس کے ہمسایہ ممالک بھی اس واقعے میں ملوث ہوں۔

ترکی کے روزنامے تاراف کے سفارتی کالم نگار سمیع آئدز کہتے ہیں’’ شام اور ایران کو اس واقعے میں ملوث کیا جا رہا ہے ۔ یہ بات ظاہر ہے کہ شام میں بحران کی وجہ سے، ترکی کے تعلقات ان دونوں ملکوں کے ساتھ اچھے نہیں ہیں۔‘‘

حالیہ مہینوں میں، انقرہ نے تہران اور دمشق دونوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ ترکی کی طرف سے شامی باغیوں کی مدد کے جواب میں پی کے کے کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ایران اور شام دونوں نے اس قسم کے الزامات سے انکار کیا ہے۔

استنبول کی قادر حاس یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے ماہر سولی اوزل کہتے ہیں کہ پی کے کے اور ترک مملکت کے درمیان تین عشروں سے جاری اس جھگڑے میں، ترکی کے ہمسایہ ملکوں نے ، اس پر دباؤ ڈالنے کے لیے پی کے کے کو استعمال کیا ہے۔ ’’کردوں کے مسئلے کا علاقائی پہلو بھی ہے، اور اسی وجہ سے ترکی میں کردوں کے مسئلے کی سیاست بڑی پیچیدہ ہو گئی ہے ۔‘‘

سفارتی نامہ نگار آئدز کہتے ہیں کہ قتل کی ان وارداتوں کا امکانی محرک امن مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ترکی کو بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے مذاکرات کے قبل از وقت اعلان کی قیمت اس قتل کی شکل میں ادا کرنی پڑ رہی ہو۔

’’پی کےکے، کے ساتھ میٹنگ کے برملا اعلان سے، دوسرے عناصر یا ملکوں کو یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں دخل دیں، اگر ایسا کرنے سے ان کے مفادات کو فائدہ پہنچتا ہو۔‘‘

فی الحال، تمام فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے کا عہد کیا ہے، لیکن تجزیہ کاروں نے انتباہ کیا ہے کہ سیاسی اور سفارتی سطح پر اتنا کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے، کہ امن کی ان کوششوں میں خلل ڈالنے کی مزید کوششیں ہو سکتی ہیں۔
XS
SM
MD
LG