رسائی کے لنکس

ترک حکومت اور کرد پارٹی کی امن کے لیے کوششیں

  • ڈوریان جونز

ترک صدر عبداللہ گل اعلیٰ سطحیٰ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

ترک صدر عبداللہ گل اعلیٰ سطحیٰ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

کردستان ورکرز پارٹی یا ’’پی کے کے‘‘ اور ترک مملکت کے درمیان 25 سال سے زیادہ عرصے سے جاری لڑائی کے بعد، اب اس جھگڑے کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ گذشتہ ہفتے پی کے کے نے جنگ بندی میں ایک ہفتے کی توسیع کا اعلان کیا اور ترک حکومت کے سینیئر وزرا عراق میں کرد لیڈروں سے مذاکرات کر رہے ہیں۔لیکن امن کے حصول کے لیے طویل اور صبر آزما کوششیں کرنی ہوں گی۔

ترکی میں تقریباً 30 برس سے کر د باغیوں کا گروپ زیادہ حقوق کے لیے جنگ کر رہا ہے ۔اس تنازع میں تقریبا 40 ہزار جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ لیکن مبصرین کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ اب دونوں طرف کے لیڈر اس تنازع کو پُر امن طریقے سے حل کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ گذشتہ ہفتے ، ترک پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر عبداللہ گُل نے ارکان پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ اس مسئلے کا حل دریافت کریں۔

انھوں نے کہا’’آج ہمیں اس مسئلے کا غیر فوجی حل معلوم کرنے کا عزم کرنا چاہیئے۔ ہمیں اپنی ماضی کی غلطیوں کا سامنا کرنا چاہیئے اور اس سوال کو جمہوری انداز سے حل کرنا چاہیئے بجائے اس کے کہ ہم یہ بحث کرتے رہیں کہ اس قسم کا مسئلہ واقعی موجود بھی ہے یا نہیں اور اس کی وضاحت کیسے کی جائے ۔‘‘

اگست میں ، ترکی کے آئین میں اصلاحات کے بارے میں سرکاری ریفرنڈم سے ایک مہینے قبل، جب پی کے کے نے جنگ بندی کا اعلان کیا، تو امن کی تحریک میں تیزی آ گئی ۔ حکومت نے سرکاری عہدے داروں کو پی کے کے، کے لیڈر Abdullah Ocalan سے ملاقات کے لیے بھیجا۔ وہ ترکی کی ایک جیل میں قید ہیں۔ اس دورانٰ اعلیٰ سرکاری عہدے داروں نے ہمسایہ ملک عراق میں کردش لیڈروں کے ساتھ بات چیت جاری رکھی۔

ترکی کی قانونی کردش تحریک کے ایک ممتاز لیڈر، Ahmet Turk کہتے ہیں کہ یہ قیامِ امن کا نہایت عمدہ موقع ہے ۔’’اگر آپ کردوں اور ترکوں سے پوچھیں تو دونوں یہی کہیں گے کہ یہ مسئلہ حل کرنے کا بہترین وقت یہی ہے ۔ ہمیں امن کے عمل کے لیے ایک روڈ میپ کی ضرورت ہے جس کے لیے اقدامات فوری طور پر کیے جانے چاہئیں۔ کردش تحریک کے بنیادی مطالبے یہ ہیں کہ مقامی خود مختاری دی جائے، کردوں کی علیحدہ شناخت کو آئین میں تسلیم کیا جائے اور اسکولوں میں کردش تعلیم دی جائے۔‘‘

لیکن سیاسیات کے ماہر ، Bahceshir یونیورسٹی کے چنگیز اختر کہتے ہیں کہ اگرچہ بہت سے مطالبات ایسے ہیں جن سے پور ے ملک کو فائدہ ہو گا، لیکن اس بارے میں سیاسی شعور کی کمی ہے۔’’انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بھی ہمیں مرکزیت ختم کرنی چاہیئے لیکن اس بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے ۔ یہ بحث کردوں نے شروع کی تھی، اور مجھے امید ہے کہ یہ ان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ قومی بحث بن جائے گی۔ آپ جانتے ہیں کہ شہریت کا مطلب ترک ہونا ہے۔ کرد اسے چیلنج کر رہے ہیں۔ زبان سے مطلب ہے ترکی کی منفرد زبان ترکش۔ لیکن اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

بلکہ گذشتہ ہفتے ترک وزیرِ اعظم رجب طیب اردکان نے کردش تعلیم کے تصور کو یکسر مسترد کر دیا اور پیر کے روز انھوں نے کہا کہ اگلے سال کے عام انتخابات سے قبل، نئے آئین کا کوئی امکان نہیں ہے ۔

ترک روزنامے Taraf کی ڈپٹی ایڈیٹر یاسمین کونگر آئین اور انتخاب کے درمیان تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں’’ووٹ ڈالنے والوں میں ترک قوم پرست بھی شامل ہیں جو جنوب مشرق کے کرد علاقے میں جمہوریت لانے کی کوششوں کی حمایت نہیں کر رہے ہیں۔ لیکن کردوں کے بھی ووٹ ہیں۔ اس لیے انہیں بڑا نازک سا توازن قائم رکھنا پڑ رہا ہے ۔ میرے خیال میں عام انتخابات سے قبل اس مسئلے کا حتمی حل نہیں مل سکتا۔‘‘

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وزیرِ اعظم نے جو سخت موقف اختیار کیا ہے، اس کے نتیجے میں پی کے کے نے جنگ بندی میں صرف ایک مہینے کی توسیع کی جب کہ توقع یہ کی جا رہی تھی کہ توسیع آٹھ مہینوں کی ہو گی۔ لیکن احمد ترک انتباہ کرتے ہیں کہ جنگ بندی کا جاری رہنا ایک حد تک ترک فوج کے رد عمل پر منحصر ہو گا ۔’’اگر فوجی کارروائیاں جاری رہتی ہیں اور جنگ بندی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ، تو اس سے نہ صرف کردوں کو سخت نقصان پہنچے گا بلکہ پورے ترک عوام بھی متاثر ہوں گے۔‘‘

گذشتہ چند ہفتوں سے ایسا لگتا ہے کہ فوج نے علیحدگی پسندوں کے خلاف کوئی بڑی فوجی کارروائی کرنے سے گریز کیا ہے ۔

اگرچہ مبصرین کہتے ہیں کہ یہ احساس عام ہے کہ ترکی کو کئی عشروں کے بعد امن قائم کرنے کا اتنا اچھا موقع ہاتھ آیا ہے۔ تا ہم یہ اندیشہ بھی موجود ہے کہ انتخابات کی سیاست سے امن کی امیدیں خاک میں مل سکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG