رسائی کے لنکس

ترکی: کردباغیوں سے تعلق کے شبے میں گرفتاریاں


ترکی: کردباغیوں سے تعلق کے شبے میں گرفتاریاں

ترکی: کردباغیوں سے تعلق کے شبے میں گرفتاریاں

ترکی سے آنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے یونین لیڈروں اور سرگرم کارکن کے خلاف کالعدم باغی کرد تنظیم سے مبینہ تعلق کے سلسلے میں پکڑ دھکڑ کی ملک گیر مہم شروع کی ہے۔

ترکی کے خبررساں ادارے اناطولیا نے بتایا ہے کہ ملک کے کم ازکم 20 شہروں اور قصبوں میں بیک وقت چھاپوں کے دوران ایک سو سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔

گرفتار کیے جانے والے کم ازکم 10 افراد کا تعلق استبول سے ہے جبکہ جنوب مشرق کے کرد اکثریتی اہم شہروں انقرہ اور دیا ربارک میں بھی گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

زیر حراست افراد میں منتخب میئر، صحافی ، اسکالر اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن بھی شامل ہیں۔

خبروں میں کہا گیا ہے کہ ان گرفتاریوں کا تعلق کردش کمیونسٹ یونین کے خلاف جاری مقدمے سے ہے، جسے انقرہ میں حکام کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے سیاسی شعبے سے تعبیر کرتے ہیں۔

کالعدم پارٹی 1974ء میں قائم ہوئی تھی۔ اسے یورپی یونین اور امریکہ ایک دہشت گرد گروپ قرار دیتے ہیں اور وہ کئی عشروں سے جاری اس شورش سے نمٹنے کے لیے ترکی کو فوجی سازوسامان فراہم کررہے ہیں۔

پی کےکے اور اس کے حامی جنوبی مشرقی ترکی میں ایک خودمختار علاقہ قائم کرنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG