رسائی کے لنکس

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اِن حملوں کے نتیجے میں شام میں ترک افواج کے مزید ملوث ہونے کا امکان ہے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں مزید کھچاؤ آ سکتا ہے

اس ہفتے ترکی میں ہونے والی بمباری کے نتیجے میں حکومتِ ترکی اور کُرد علیحدگی پسندوں کے درمیان جاری تنازع کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اِس سے نئے سوالات نے بھی جنم لیا ہے، آیا شام کے تنازع میں امریکہ کس کی حمایت کر رہا ہے اور امریکہ کے مقاصد کا دئراہٴ عمل کیا ہے۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اِن حملوں کے نتیجے میں شام میں ترک افواج کے مزید ملوث ہونے کا امکان ہے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں مزید کھچاؤ آ سکتا ہے۔

اِن حملوں میں سب سے بڑا حملہ بدھ کے روز ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے وسط میں ہوا جب خودکش حملہ آور نے کار میں نصب بم کا دھماکہ کیا، جس کے بعد صدر رجب طیب اردوان نے فوری بیان جاری کرتے ہوئے بدلہ لینے کا عہد کیا، جنھوں نے کرد علیحدگی پسندوں اور اُن کے بیرونی حامیوں پر شام میں مداخلت کا الزام لگایا ہے۔
اردوان نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ ’’حالانکہ جو ’پی آئی ڈی‘ اور ’پی کے کے‘ کی قیادت کرتے ہیں کہا ہے کہ اُن کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن وزیر داخلہ اور ہمارے انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے اکٹھی کردہ اطلاعات کی بنیاد پر اس بات کی پرکھ ہو چکی ہے کہ یہ اُنہی کا کیا دھرا ہے‘‘۔

ترک افواج عشروں سے کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ گذشتہ برس سے، جنوب مشرقی ترکی لڑائی کا میدان بنا ہوا ہے، جہاں نازک جنگ بندی کے ختم ہونے کے بعد کرد علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

اردوان اس جنگ و جدل کو شام تک لے گئے ہیں، جب کہ سرحد پر کھڑے ٹینک شامی علاقے کے اندر گولہ باری کر رہے ہیں، جہاں کرد افواج اپنی کارروائیاں کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ بم حملوں کے نتیجے میں ترکی کو اپنی کارروائی تیز کرنے کا ایک جواز مل گیا ہے۔
ڈیوس لیون، ’ہینری جیکسن سوسائٹی‘ کے پالیسی سربراہ ہیں، جو لندن میں قائم ایک تحقیقی ادارہ ہے۔ بقول اُن کے، ’’مجھے یوں لگتا ہے کہ مسٹر اردوان ایسے شخص نہیں ہیں جنھیں اس قسم کی پالسیوں پر عمل پیرا ہونے کے لیے کوئی جواز درکار نہیں ہے۔ لیکن مجھے امید ہے کہ وہ اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں گے‘‘۔

اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’وہ فوری طور پر اسے اپنے حق میں استعمال کریں گے اور کوئی بھی سیاسی واقعہ ہو جس کو وہ بہانہ بنائیں، یا اُن کی حکمت عملی کی حامل کیا ضرورتیں ہیں جنھیں وہ سامنے لائیں گے‘‘۔

اردوان کا یہ اقدام ترکی اور امریکہ کے درمیان مسائل کے شکار تعلقات کے ضمن میں مزید نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

نیٹو کے یہ دونوں اتحادی شام کے صدر بشار الأسد کو ہٹانا اور داعش کے شدت پسند گروہ کو تباہ کرنے کے خواہاں ہیں؛ لیکن جب معاملہ کردوں کا ہو تو اُن کے مفاد متضاد ہیں۔ ایسے میں جب ترکی شام میں کرد لڑاکوں کو ہدف بنا رہا ہے، امریکہ نے اُنھیں مسلح کیا ہے اور اُن کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

شام کے تنازع کا اصل امریکی مقصد داعش کے شدت پسند گروپ کو کمزور اور بالآخر تباہ کرنا ہے؛ جس مقصد کے حصول کے لیے شمالی شام میں اسد کی کارروائی کا مقابلہ کرنے کی غرض سے امریکہ کُرد جنگجوؤں پر انحصار کرتا ہے۔

ترکی کا ہدف یہ ہے کہ وہ شام کے ساتھ اپنی سرحد کے دونوں اطراف کرد لڑاکوں کو روکنا چاہتا ہے۔ تنازع میں کردوں کے بڑھنے ہوئے اثر و رسوخ اردوان کے لیے شدید تکلیف کا باعث ہے، جنھیں ڈر ہے کہ اُن کی ہتھیاروں اور فوجی تربیت تک
رسائی کے نتیجے میں اُن کی آزاد ریاست کے حصول کی کوششوں میں شدت آئے گی، جو زیادہ تر ترک علاقوں پر مشتمل ہے۔

XS
SM
MD
LG