رسائی کے لنکس

ترکی نے مسلح کُردوں کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر دیا


فائل

فائل

انھوں نے بدھ کو کہا کہ کردش ورکر پارٹی کے ایک ایک مسلح فرد کو شکست سے دوچار کرنے تک یہ جنگ جاری رہے گی

ترکی کے صدر طیب اردوان نے کرد مسلح گروہوں کے خلاف فوجی اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

صدر طیب اردیگان نے اپنی حکمراں جماعت کی پارلیمانی انتخابات میں نمایاں کامیابی کے بعد پہلی بار اپنا پالیسی بیان جاری کیا ہے۔

انھوں نے بدھ کو کہا کہ کردش ورکرز پارٹی کے ایک ایک مسلح شخص کو شکست سے دوچار کرنے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔

ترکی کے طیارے پہلے ہی شمالی ترکی اور شمالی عراق کے کرد اکثریتی علاقوں میں بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں حالیہ مہینوں کے دوران سینکڑوں لوگوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

گزشتہ جولائی میں شمالی عراق میں کرد نوجوانوں کے ایک فوجی تربیتی کیمپ پر بمباری کے بعد کردش پارٹی، ’پی کے کے‘ اور ترکی کے درمیان تین سالہ جنگ بندی کا معاہدہ ٹوٹ گیا تھا، جبکہ پی کے کے اس دوران داعش کے خلاف بھی لڑائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ترکی اور ’پی کے کے‘ کے درمیان جنگ میں 1984ء سے اب تک 40 ہزار لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG